بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت مطالبات کو نظر انداز کرنے کی بجائے تحفظات سنے کارپٹ ایسوسی ایشن کا وزیر اعظم ، معاشی ٹیم کے نام کھلا خط

datetime 30  جون‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)پاکستان کارپٹ مینو فیکچررزاینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے زیر ریٹنگ رجیم ختم کرنے کے فیصلے پر وزیر اعظم عمران خان، مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ، وزیر مملکت ریو نیو حماداظہر اور مشیر تجارت عبد الرزاق دائود کے نام لکھے گئے کھلے خط میں کہا ہے کہ حکومت برآمدی شعبوں کے مطالبات کو یکسر نظر انداز کرنے کی بجائے ملاقات کرکے ہمارے تحفظات سے آگاہی حاصل کرے۔

کارپٹ انڈسٹری پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہے اور17فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ سے مارکیٹ میں موجود سرمایہ بالکل ختم ہو نے سے ہمارا کاروبار منجمد ہو جائے گا۔ ایسوسی ایشن کے قائمقام سینئر وائس چیئرمین کامران رضی ، کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرپرسن پرویز حنیف ،سینئر مرکزی رہنما عبد الطیف ملک ، سینئر ممبر ریاض احمد ، سعید خان کی جانب سے لکھے گئے کھلے خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے معیشت کی ترقی کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہیں لیکن بعض ایسے فیصلے بھی کئے گئے ہیں جن سے بجائے فائدے کے نقصان ہونے کا اندیشہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زیر وریٹنگ رجیم ختم کر کے 17فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذ پہلے سے تباہ حال انڈسٹری کو بالکل ختم کرنے کا سبب بنے گا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنی زیر صدارت اپنی معاشی ٹیم کے ہمراہ برآمدی شعبوں سے ہنگامی میٹنگ کر کے ہمارے مطالبات کو سنیں ، ہم ہمیں قائل کریں گے کہ اس فیصلے سے ہماری برآمدات کو کس قدر نقصان ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبوں کی ریٹیل میں فروخت ہونے والی مصنوعات پر ضرور ٹیکس لیا جائے لیکن اس کے لئے ایک طریق کار بنانے کی ضرورت ہے ۔ نئے فیصلے سے آڈٹ اورریفنڈ کی پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی جس سے ہمارا کاروبار بالکل منجمد ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قوی امید ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اقتصادی ٹیم ہمارے مطالبات کو زیر غو رر لائے گی اور اس حوالے سے ملاقات کر کے ہمارے تحفظات کو سناجائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…