ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

حکومت مطالبات کو نظر انداز کرنے کی بجائے تحفظات سنے کارپٹ ایسوسی ایشن کا وزیر اعظم ، معاشی ٹیم کے نام کھلا خط

datetime 30  جون‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)پاکستان کارپٹ مینو فیکچررزاینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے زیر ریٹنگ رجیم ختم کرنے کے فیصلے پر وزیر اعظم عمران خان، مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ، وزیر مملکت ریو نیو حماداظہر اور مشیر تجارت عبد الرزاق دائود کے نام لکھے گئے کھلے خط میں کہا ہے کہ حکومت برآمدی شعبوں کے مطالبات کو یکسر نظر انداز کرنے کی بجائے ملاقات کرکے ہمارے تحفظات سے آگاہی حاصل کرے۔

کارپٹ انڈسٹری پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہے اور17فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ سے مارکیٹ میں موجود سرمایہ بالکل ختم ہو نے سے ہمارا کاروبار منجمد ہو جائے گا۔ ایسوسی ایشن کے قائمقام سینئر وائس چیئرمین کامران رضی ، کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرپرسن پرویز حنیف ،سینئر مرکزی رہنما عبد الطیف ملک ، سینئر ممبر ریاض احمد ، سعید خان کی جانب سے لکھے گئے کھلے خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے معیشت کی ترقی کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہیں لیکن بعض ایسے فیصلے بھی کئے گئے ہیں جن سے بجائے فائدے کے نقصان ہونے کا اندیشہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زیر وریٹنگ رجیم ختم کر کے 17فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذ پہلے سے تباہ حال انڈسٹری کو بالکل ختم کرنے کا سبب بنے گا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنی زیر صدارت اپنی معاشی ٹیم کے ہمراہ برآمدی شعبوں سے ہنگامی میٹنگ کر کے ہمارے مطالبات کو سنیں ، ہم ہمیں قائل کریں گے کہ اس فیصلے سے ہماری برآمدات کو کس قدر نقصان ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبوں کی ریٹیل میں فروخت ہونے والی مصنوعات پر ضرور ٹیکس لیا جائے لیکن اس کے لئے ایک طریق کار بنانے کی ضرورت ہے ۔ نئے فیصلے سے آڈٹ اورریفنڈ کی پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی جس سے ہمارا کاروبار بالکل منجمد ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قوی امید ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اقتصادی ٹیم ہمارے مطالبات کو زیر غو رر لائے گی اور اس حوالے سے ملاقات کر کے ہمارے تحفظات کو سناجائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…