بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

یکم جولائی تک حتمی بجٹ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیے جانے کا امکان

datetime 28  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) حکومت کی قومی اسمبلی سے فنانس بل 20-2019 کی حتمی منظوری کے بعد اس کی اگلی منزل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا بورڈ اجلاس ہوگا، جو 3 جولائی کو شیڈول ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس تمام معاملے سے آگاہ ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ اسمبلی سے حتمی بجٹ کے اقدامات کی منظوری کے ساتھ تمام پیشگی اقدامات پر تعمیلی رپورٹ، پاکستان کی 6 ارب ڈالر کی درخواست پر

آئی ایم ایف بورڈ کے فیصلے میں اہم عنصر ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بجٹ اور فنانس بل کا حتمی اور منظور شدہ ورژن پیر تک آئی ایم ایم کو منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔دوسری جانب بورڈ اجلاس کی حساسیت کے تناظر میں وزرات خزانہ کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’تمام پیشگی ایکشنز کی تکمیل نے 3 جولائی کے بورڈ اجلاس کے لیے راستہ بنایا ہے، جبکہ پارلیمنٹ سے منظور بجٹ کو شیئر کرنا ان پیشگی ایکشن میں سے ایک تھا‘۔انہوں نے کہا کہ ا?ئی ایم ایف اجلاس کے سامنے پیش کرنے کے لیے بجٹ کی منظوری پاکستان کے لیے حتمی چیز تھی، اس کے علاوہ ’حالیہ ایکسچینج ریٹ، اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ، بجلی اور گیس کی قیمتیں اور بجٹ منظوری اہم پیشگی اقدامات تھے‘۔حکام کا کہنا تھا کہ 12 مئی کو ہونے والے اسٹاف کی سطح پر معاہدے کے تناظر میں اقتصادی اور مالی پالیسی کی یاد داشت (ایم ای ایف پی) پہلے ہی آئی ایم ایف کو منتقل کی جاچکی ہے، پاکستان 39 ماہ تک پروگرام کی مدت میں مصروف عمل رہے گا جسے اسٹیٹ بینک ’مارکیٹ کا متعین کردہ ایکسچینج ریٹ‘ کہہ رہا ہے۔تاہم ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی موقع پر مرکزی بینک کو بیرونی عوامل کی طرف سے مصنوعی طریقے سے ایکسچینج ریٹ میں چھیڑچھاڑ کی کوشش کی قابل عمل ثبوت نظر آتے ہیں تو وہ اس میں مداخلت کے لیے آزاد ہوگا۔اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک پاکستان اپنے پالیسی ریٹ اور افراط زر کی شرح کے درمیان موجودہ فرق کو برقرار رکھے گا، جبکہ کسی بھی وقت کیسے بھی حالات میں پالیسی ریٹ اور افراط زر کے درمیان فرق کو 1.5 فیصد سے نیچے گرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس کا مطلب یہ ہے کہ انتہائی حالات میں پالیسی ریٹ مہنگائی سے 1.5 فیصد زیادہ پر رہے گا۔واضح رہے کہ اس وقت بنیادی افراط زرد

7.2 فیصد پر موجود ہے جبکہ صارفین کے پرائس انڈیکس کے تحت مہنگائی کی عام شرح 9.1 فیصد اور پالیسی ریٹ 12.25 فیصد پر ہے۔اسٹیٹ بینک کے مختلف ذرائع نے بتایا کہ عام طور پر پالیسی ریٹ کا فیصلہ کرتے وقت موجودہ افراط زر کی شرح کے بجائے متوقع افراط زر کو دیکھا جاتا ہے، اسی تناظر میں بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے متوقع مہنگائی کی شرح زیادہ سے زیادہ 13 فیصد ہوسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…