ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

دوبئی :اونٹنی کا دودھ کس چیز میں استعمال ہو رہا ہے؟ جانئے

datetime 2  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )اونٹنی کا دودھ صدیوں سے عربوں کی مقبول ترین غذا رہا ہے لیکن اب دبئی کی ایک کمپنی نے اسے ایک مہنگے شیمپو کی شکل دے کر بین الاقوامی پیمانے پر متعارف کروادیا ہے۔ایمریٹس انڈسٹری فار کیمل ملک اینڈ پراڈکٹس کی ذیلی کمپنی کیملیشیئس بیوٹی نے دبئی میں منعقد ہونے والے ”بیوٹی ورلڈ 2015ئ“ ٹریڈ شو میں نئی قسم کا شیمپو متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے جس کی چار مختلف قسمیں اونٹنی کے دودھ سے تیار کی جائیں گی۔ کمپنی شیمپو کے علاوہ دیگر متعدد بیوٹی پراڈکٹس بھی اونٹنی کے دودھ سے بنا رہی ہے جن میں بیوٹی کریم اور لوشن وغیرہ شامل ہیں۔ اونٹنی کے دودھ سے بنے شیمپو کو چار مختلف اقسام میں متعارف کروایا جائے گا جن کی قیمتیں 8 ڈالر سے لے کر 40 ڈالر (تقریباً 4 ہزار پاکستانی روپے) تک ہوں گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ شیمپو خوبصورتی کی فکر کرنے والے کسٹمرز کے لئے متعارف کروایا جارہا ہے جو اپنے حسن کی حفاظت کے لئے قدرے زیادہ رقم خرچ کرنے پر تیار ہیں۔ شیمپو امریکا، یورپ اور ملائیشیائ میں بھی متعارف کروایا جائے گا۔

مزید پڑھئے:خانہ بدوش گھر جہاں دل کرے لے جائیں

دبئی العین روڈ پر واقع کمپنی کے فارمز میں روزانہ 6ہزار لٹر اونٹنی کا دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔ کمپنی اونٹنی کا تازہ دودھ برطانیہ بھی سپلائی کرتی ہے جبکہ خصوصی چاکلیٹ بنانے کے لئے اونٹنی کے دودھ کا پا?ڈر بھی سپلائی کیا جاتا ہے۔

news-1433164752-7677

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…