اسلام آباد(نیوزڈیسک )آپ کےذہن میں یہ بات آئی ہو گی کہ کیا آپ آج صبح اخبارات کے سٹینڈ کے پاس سے گزریں ہیں۔اگر آپ جلدی میں ہیں تو اس سوال کا مختصر جواب ہے نہیں۔لیکن کچھ بہت ہی دلچسپ ہونے والا ہے۔ امیونو تھیرپی کے میدان میں۔یہ مکمل اعلاج نہیں ہے لیکن امیونو تھیرپی بہت تیزی کے ساتھ کیمیوتھیرپی، ریڈیو تھیرپی اور سرجری کے ساتھ ساتھ ایک طاقتور ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔آپ کی قوتِ مدافعت کا نظام آپ کے جسم میں ایک محافظ کا کام کرتا ہے اور ہر ا±س چیز کو صاف کر دیتا ہے جسے آپ نہیں کر پاتے۔اس نظام میں بہت سی رکاوٹیں ہوتی ہیں جو قوت مدافعت کے نظام کو صحت مند ریشوں کو بننے سے روکتا ہے۔( یہیں پر بہت سی بافتوں کا سخت ہوجانا جیسی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں)۔تاہم سرطان صحت مند ریشو کا ایک خراب ورڑن ہی ہے اور جو ہماری قوت مدافعت کے نظام کو دھوکا دے سکتا ہے۔یہ کیمیائی طور پر اسی طرح دکھ کر چیختا ہے ’ یہاں کچھ نہیں ہے آگے بڑھ جائیں۔‘وہ اپنی سطح پر پروٹین بنا کر ایسا کرتا ہے جس کی مدد سے وہ قوت مدافعت کے نظام میں مل جاتا ہے تاکہ اسے کام کرنے سے روک دے۔امیونوتھیرپی ادویات جس سے لوگوں میں دلچسپی پیدا ہوئی ہے ایک اوون کے دستانے کا کام کرتا ہے اور اسے ملنے سے روکتا ہے۔امیونوتھیرپی پر کافی عرصے سے کام ہو رہا ہے لیکن اخبار کے صفحہ اول پر اچانک یہ خبر امریکن سوسائٹی آف کلینکل اونولوجی کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات کے بعد آئی ہے۔برطانیہ کی قیادت میں ہونے والی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ بہت پھیلا ہوا جلد کا سرطان اس وقت گھٹنے لگا جب دو امیونوتھیرپیاں ملا کر کی گئیں۔ ان دو تھیرپیوں نے جان لیوا سرطان کو بڑھنے سے تقریباً ایک سال تک روکے رکھا۔امریکن سوسائٹی آف کلینکل اونولوجی کا اعلان ایک اور امیونو تھیرپی کرنے کے دو دن بعد ہوا تھا جب پھیپڑوں کے سرطان میں مبتلا ایک مریض کو دی جانے والی امیونو تھیرپی کی ادویات سے اس کے زندہ رہنے کی امید بڑھ گئی۔یونیورسٹی آف بکنگھم کے میڈیکل سکول کے ڈین پروفیسر کارل سیکورا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ’آپ سوچیں گے کہ سرطان کا علاج کل ہو جائے گا۔ یہ ایسا نہیں ہے ہمیں ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔‘میلانوما یا جلد کے سرطان کے لیے دو دواو¿ں اپلی مماب اور نیولیوماب کا استعمال کیا گیا تھاتو پھر احتیاطی الفاظ کیا ہیں؟یہ ادویات سب پر ایک جیسا کام نہیں کرتی ہیں۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ بہت بہترین ہیں، کچھ کے لیے تھوڑا بہتر اور بعض پر تو یہ بلکل اثر نہیں کرتیں۔اس کے ابھی تک غیر واضح ہونے کی ایک وجہ ہے۔ کیا سرطان بڑھنے کے دوران بہت حساس ہوتا ہے؟ کیا یہ رسولیوں کی سطح پر بننے والے پروٹینز کی مقدار اور قسم کی وجہ ہے؟ ہم یہ سب ابھی نہیں جانتے ہیں۔یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس قسم کی تھیرپی بہت مہنگی ہوگی۔ جس کا مطلب ہے کہ ان ادویات کے لیے ان لوگوں کو تلاش کرنا ضروری ہوگا جن پر ان کا اثر ہوگا۔اس علاج کے طویل المعیاد مضر اثرات کے حوالے سے بھی بے یقینی پائی جاتی ہے۔ کیا مدافعتی نظام میں تبدیلی کرنے سے آٹوامیون بیماریوں کے بڑھنے کا خطرہ بڑھ جائے گا؟ابھی تک اس کے مضر اثرات صرف علاج کے دوران ہی سامنے آئے ہیں لیکن جن مریضوں پر اس دوا نے اثر کیا ہے ان کے حوالے سے کچھ سامنے نہیں آیا ہے۔میلانوما یا جلد کے سرطان کے لیے دو دواو¿ں اپلی مماب اور نیولیوماب کا استعمال کیا گیا تھا۔اپلی ممابپ برطانیہ میں پہلے سے ہی میلا نوما کے علاج کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔تو جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ یہ کہ اس میدان میں مستقبل کے لیے بہت کام ہو رہا ہے۔یہ سچ میں دلچسپ ہے اگر اس میں ’علاج‘ کا لفظ نہ ڈالا جائے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
امریکی ویزا کے خواہشمند پاکستانیوں کے لئے بڑا اعلان
-
وزیراعظم شہباز شریف کے آموں کے تحفے پر ہنگری کے وزیراعظم کا دلچسپ پیغام
-
کون سا پاکستانی شہری اب ملک میں داخل نہیں ہو سکے گا؟ ہوائی اڈوں کو ہدایات جاری
-
بھارت و افغانستان کا ڈی این اے ایک جیسا ہے، افغان وزیر کو کہنا مہنگا پڑ گیا
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان
-
لاہور میں فیکٹری مالک کو انسپکشن کیلئے آنے اسسٹنٹ کمشنر سے تعارف پوچھنا مہنگا پڑ گیا
-
وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان، نئے نام زیر غور
-
750 روپے مالیت کے پرائز بانڈ رکھنے والوں کیلئے خوشخبری
-
سعودی عرب کا نیا “پیکیج ویزا” متعارف، پاکستان سمیت 7 ممالک کے شہری مستفید ہوں گے
-
سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی،فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
-
پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)
-
5 سالہ سروس مکمل کرنے والے ملازمین کے لئے اہم خبر آگئی
-
عمران ہاشمی سے ملائی جانے والی سحر ہاشمی کا رد عمل سامنے آگیا
-
دنیا کے امیر ترین ممالک کون سے ہیں؟ نئی عالمی رپورٹ سامنے آگئی



















































