پیر‬‮ ، 19 اکتوبر‬‮ 2026 

”ابھی ہائے ہائے نکلے گی صبر کرو!“ آپ مڑ کر دیکھیں گے تو رانا ثناء اللہ سمیت کوئی بھی نہیں بچے گا، زرتاج گل نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو کھری کھری سنا دیں

datetime 21  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر مملکت زرتاج گل نے قومی اسمبلی میں خطاب کا آغاز کیا تو اپوزیشن کی جانب سے شور کی آوازیں بلند ہوئیں جس پر انہوں نے کہا کہ ابھی ہائے ہائے نکلے گی صبر کرو، اس کے بعد انہوں نے کہا کہ جب میں اسمبلی پہنچی تو خواجہ آصف اور خورشید شاہ صاحب یہ بتا رہے تھے کہ کچھ لوگ سیاست کیسے کرتے ہیں اور ہماری پارٹی کو سیاست کیسے کرنی چاہیے،

زرتاج گل نے کہا کہ مجھے خواجہ صاحب اور شاہ صاحب کی بات سن کر بڑی خوشی ہوئی کیونکہ میں تھرڈ جنریشن کی پولیٹیشن ہوں اوریہ سیکنڈ جنریشن کے پولیٹیشن ہیں اور قائداعظم فرسٹ جنریشن کے پولیٹیشن تھے، انہوں نے کہاکہ ہمیں پارلیمنٹ کے فلور پر کچھ ضابطے بنانے چاہئیں کہ جب ہم دیکھیں کہ کچھ لوگ مشرف کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کچھ پیپلز پارٹی کے دور میں بیٹھے ہوئے تھے کچھ آج پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، جب یہ ہماری پارٹیوں میں آتے ہیں تو یہ لوگ کیا کرتے ہیں ہمیں نظرثانی کرنی چاہیے کہ یہ لوگ جب ہماری پارٹیوں میں آتے ہیں تو یہ لوگ کیا کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ بہت اچھی بات ہے مجھ جیسے لوگ تو ہیں ہی تحریک انصاف کے ساتھ لیکن ایسا نہ ہو کہ خواجہ آصف صاحب مڑ کر دیکھیں تو اور یہ فارمولا اپلائی کریں تو پتہ چلا کہ رانا ثناء اللہ سمیت ساری کی ساری صفیں ان کے پیچھے خالی ہو گئی ہیں، وزیر مملکت زرتاج گل نے خورشید شاہ کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں لوٹوں کا گلہ کرنے والے خیال کریں کہیں وہاں سے رانا ثنا سے لے کر اویس لغاری تک صفیں خالی نہ ہو جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے وزیرخزانہ بدلا، ہماری پارٹی کا فیصلہ تھا مگر آپ نے کیوں پانچ وزرا خزانہ بدلے؟۔ انہوں نے کہاکہ ہم پہلی بار آئی ایم ایف کے پاس گئے مگر آپ تو 7 مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گئے؟ کیا وہ درست تھا؟۔ انہوں نے کہاکہ 70 سال میں آپ کی زراعت کیا پالیسی تھی، کون سی فصل کہاں اگے گی،

آپ حتمی فیصلہ نہ کرسکے۔ انہوں نے کہاکہ 70 سال میں پہلا بجٹ غریب عوام، نادار افراد کے لئے بجٹ ہے، 100 ارب کی رقم اس بجٹ میں نوجوانوں کے لئے رکھی۔ انہوں نے کہاکہ روٹی کپڑا مکان اگر واقعی دیا ہوتا تو کوئی ایک رکن قومی اسمبلی پیپلز پارٹی کا خیبر پختونخوا سے کیوں نہیں؟۔ انہوں نے کہاکہ 31 ہزار ارب روپے لے کر کہاں خرچ کئے، اگر خرچ کئے ہوتے تو ملک دیوالیہ نہ ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ 6 کروڑ روپیہ روزانہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا صوابدیدی خرچ تھا۔

زرتاج گل نے کہاکہ آپ ہم پر تنقید کریں مگر سینئرز کو بتاتے ہیں کہ ہم ڈیم بناکر دکھائینگے۔ انہوں نے کہاکہ لندن یاترا، فیملی کے بلز، یوٹیلیٹی بلز تک سابق حکمرانوں نے غریب عوام کی جیب سے نکالا گیا۔ انہوں نے کہاکہ گیس، بجلی، ریلوے، سٹیل ملز، پی آئی اے سمیت دیگر محکموں کا خسارہ چھوڑ کر گئے ہیں۔ زرتاج گل نے کہاکہ ترچھی ٹوپی پہن کر قدرتی آفات ختم نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ پہلی مرتبہ لاہور کے علاوہ پنجاب کے دیگر اضلاع کا سوچا گیا۔ انہوں نے کہاکہ پہلی مرتبہ بجٹ میں جنوبی پنجاب کی سنی گئی۔انہوں نے کہاکہ ن لیگ کی لندن یاترا کے پیسے بھی عوام کی جیبوں سے لئے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…