پشاور ( نیوزڈیسک) تحریک انصاف کے کارکن کے قتل کے الزام میں اے این پی کے رہنماء4 میاں افتخار حسین کی گرفتاری کی ہر سطح پر مذمت کی گئی۔ نوشہرہ کی عدالت میں جاں بحق ہونے والے حبیب اللہ کے والد نے افتخار حسین کو بیٹے کے قتل سے بری الذمہ قرار دے دیا جس پر اے این پی رہنماء نے سوال اٹھایا کہ اگر مقتول کے والد نے مقدمہ درج نہیں کرایا تو پھر کس نے کروایا ؟۔ مقتول کے والد کے عدالتی بیان کے بعد خیبر پختونخوا حکومت اور پولیس کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جس پر مسلسل وضاحتیں دی گئیں لیکن بات نہ بنی، آخر کار خیبر پختونخوا حکومت اور پولیس نے گھٹنے ٹیک دیے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ افتخار حسین کی رہائی کے انتظامات کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ میاں افتخار حسین اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں اور کیس کی آئندہ سماعت پندرہ دن بعد ہوگی۔
میاں افتخار کی گرفتاری پر شدید ردعمل، خیبر پختونخوا حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)
-
پیٹرول کتنے روپے سستا ہوگا؟ وزیراعظم نے عوام کو خوشخبری سنا دی
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے حکومت کا بڑا اعلان
-
این ڈی ایم اے کا ممکنہ شدید گرمی کے پیش نظر الرٹ جاری
-
لاہو رکے علاقے ڈیفنس میں 2 سوشل میڈیا سٹارز لڑکیوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، وزیراعظم کا آج قوم سے خطاب متوقع
-
راولپنڈی میں زیادتی کا شکار ہونے والی 15 سالہ طالبہ کے ہاں بیٹی کی پیدائش ، پولیس نے ملزم کو گرفتار...
-
پانچ مرلہ کے گھر پر سنگل فیز میٹر لگانے پر پابندی عائد
-
750روپے کا پرائز بانڈ رکھنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
وزیراعلی نے موٹر سائیکل مالکان کے لیے پیٹرول سبسڈی کی تفصیلات جاری کر دیں
-
ہر بچے کا ’’ب فارم‘‘ اب ایک بار نہیں 3 بار بنے گا! نیا طریقہ کار متعارف
-
پولیس حراست میں باپ بیٹے کی ہلاکت پر 9 اہلکاروں کو سزائے موت کی سزا
-
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی، سعودی عرب کا اہم بیان سامنے آگیا



















































