ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

11 ہزار 3 سو حجاج کا کوٹہ ضائع ہونے کا خدشہ۔۔۔!!! پرائیویٹ حج کوٹہ حکومت کیلئے پریشانی کا سبب بن گیا

datetime 17  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن )رواں برس حج کی سعادت کے لیے پرائیویٹ کوٹہ حکومت پاکستان کے لیے پریشانی کا سبب بن گیا جہاں 11 ہزار 3 سو حجاج کا کوٹہ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ذرائع کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے باعث 5 ہزار پرائیویٹ کوٹے کے ذریعے حج کرنے والوں کا کوٹہ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

عدالت عالیہ نے تقریبا ایک سو ایک نئی ٹریولنگ کمپنیوں کو الاٹ شدہ 5 ہزار حاجیوں کے کوٹے پر حکم امتناع دیا ہوا ہے جنہیں وزارت مذہبی امور نے حج فارمولیشن کمیٹی کی سفارش پر کوٹہ دیا تھا۔تاہم ان کمپنیوں میں ایک بھی کمپنی کا تعلق بلوچستان سے نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان ہائی کورٹ نے حکم امتناع دیا تھا۔ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکم امتناع کے باعث 5 ہزار پرائیوٹ حاجیوں کی بکنگ، منظم نمبر اور دیگر انتظامات نہ ہوسکے۔اس کے علاوہ اضافی کوٹہ کی مد میں 6 ہزار 3 سو پرائیویٹ حجاج کا بھی فیصلہ نہ ہوسکا اور اس حوالے سے وزارت مذہبی امور نے وزارت قانون سے رائے مانگ لی۔خیال رہے کہ رواں سال کے لیے حج آپریشن 4 جولائی سے شروع ہوگا۔واضح رہے کہ رواں برس سرکاری حج اسکیم کے تحت 2 لاکھ 16 ہزار 542 درخواستیں موصول ہوئی تھیں جس میں سے ایک لاکھ 7 ہزار 526 درخواست گزار 11 مارچ میں ہونے والی قرعہ اندازی میں کامیاب قرار پائے تھے۔بعدازاں وزارت مذہبی امور نے سعودی عرب کی جانب سے نئے حج کوٹہ ملنے کے بعد حج اسکیم میں ناکام 16 سے زائد امیدواروں کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا تھا۔تقریبا 16 ہزار کے اس نئے حج کوٹے کو بھی 60 فیصد سرکاری اور 40 فیصد نجی اسکیم کے تحت تقسیم کیا گیا تھا، جس کے تحت 9 ہزار 4 سو 74 عازمین سرکاری جبکہ 6 ہزار 316 نئے ٹور آپریٹرز کے ذریعے حج پر جاسکیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…