جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

نا مساعد حالات میں بجٹ مناسب ہے، اعتراضات بے جا ہیں، ڈاکٹر مرتضیٰ مغل

datetime 15  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن ) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ حکومت نے نہایت نا مساعد حالات میںمناسب بجٹ پیش کیا گیا ہے جس پر اعتراضات بے جا ہیں۔موجودہ حالات میںاس سے بہتر بجٹ ممکن نہیں تھا کیونکہ اس سے زیادہ ریلیف ملک کو دیوالیہ کر دے گا۔موجودہ بجٹ کا پورا ملبہ آئی ایم ایف یا پی ٹی آئی کی حکومت پر نہیں دالا جا سکتا بلکہ اسکے ذمہ دار وہ بھی ہیں۔

جنھوں نے اپنے دور حکومت میںریکارڈ کرپشن کی، چوبیس سو ارب روپے کے قرضے لئے اور اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کی۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ایک بھگوڑا وزیر ملک سے فرار ہونے سے قبل اقتصادی راستے میں بارودی سرنگیں بچھا گیا جبکہ نا تجربہ کار حکومت بروقت کاسازش کا ادراک نہ کر سکی جس سے حالات مزیدبگڑ گئے۔ان حالات میں کاروباری برادری کے مطالبات ماننے کا مطلب ملک کو دیوالیہ کرنا ہو گا جو ملکی مفاد کے خلاف ہے ۔ملک کو بچانا بزنس مینوں کے منافع سے زیادہ اہم ہے۔بجٹ میں آئی ایم ایف کے کردار کا الزام وہ لگا رہے ہیں جنھوں نے خود آئی ایم ایف سے ریکارڈ قرضے لئے کر ضائع کئے اور اس ادارے کو ملک پر مسلط کیا۔انھوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو تباہ کرنے والے گینگ کے مفرور ممبران کو واپس لا کر انکے گاڈ فادر کے ساتھ جیل میں بند کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ حکومت عام آدمی کے استعمال کی اشیاء کے بجائے ان اشیاء پر ٹیکس بڑھائے جنھیں دولت مند استعمال کرتے ہیں۔ فوج چودہ فیصد بجٹ لے کر مشکل ترین حالات میںملک و قوم کی سو فیصد حفاظت کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔ فوجی بجٹ میں کمی کا مطالبہ کرنے والے یا تو زمینی حقائق سے ناواقف ہیں یا ملک دشمن قوتوں کی حوصلہ افزائی کے خواہاں ہیں۔جس طرح فوج نے اپنا بجٹ کم کیا ہے اسی طرح سرکاری وسائل کو ضائع کرنے والے دیگر ادارے اور شعبے بھی فوج کی تقلید کرتے ہوئے کفایت شعاری اختیار کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…