جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

عوام پر ایک اور مہنگائی بم گرا دیا گیا ، بجلی کی قیمت میں اضافہ

datetime 14  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بجلی کی قیمتوں میں ایک بار پھر سے اضافہ کر دیا گیا۔نیپرا نے بجلی فی یونٹ ایک روپے 49پیسے مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بجلی مہنگی کرنے کی منظوری گھریلو،کمرشل،صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے کی گئی۔

اس سے قبل ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ آئی ایم ایف سے طے ہونے والے معاہدے کے بعد مہنگائی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے آئی ایم ایف سیبجلی کے نرخ بڑھانے کی حامی بھرلی ہے جس کے تحت بجلی کے نرخ 2 روپے 60 پیسے فی یونٹ تک بڑھنے کا امکان ہے۔ بجلی کے نرخ 2 قسطوں میں بڑھائے جائیں گے۔ پہلے مرحلے میں نرخ یکم جولائی سے ایک روپے 30 پیسے بڑھنے کا امکان ہے جبکہ دوسرے مرحلے میںبجلی کے فی یونٹ نرخ یکم ستمبر سے ایک روپے 30 پیسے بڑھنے کا امکان ہے۔حکومتی اقدام سے قومی خزانے پر سبسڈی کی مد میں دیئے جانے والے 200 ارب روپے کا بوجھ کم ہوگا۔ نئے ٹریف میں فی یونٹ 12.98 پیسے سے 15.58 پر آجائے گا، حکومت نے آئی ایم ایف کو سرکولر ڈیٹ کم کرنے کی بھی یقین دہانی بھی کروائی ہے، حکومت لائن لاسز، چوری، ڈسٹری بیوشن کو بھی بہتر بنائے گی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اپریل کے مہینے میں بجلی کی قیمتوں میں 81 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کیا گیا تھا۔بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ماہانا فیول ایڈ جسمنٹ کی مد میں کیا گیاتھا۔ اس اضافے سے بجلی صارفین پر 5 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔اس سے قبل 20فروری کو بجلی کی قیمت میں ایک روپیہ 80پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا تھا۔۔بجلی کی قیمتوں میں یہ اضافہ جنوری کی فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں کیا گیا تھا جس سے صارفین پر 13ارب 50کروڑ کا اضافی بوجھ پڑا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…