ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ملک میں دو عیدوں پر مجھے بھی دکھ ہوتا ہے،قمری کیلنڈر کیلئے شریعت کے اصول نہیں چھوڑے جا سکتے، مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے بھی فواد چوہدری کو تنبیہ کر دی

datetime 30  مئی‬‮  2019 |

پشاور(آن لائن) پشاور کی مسجد قاسم علی خان کے مہتمم مفتی شہاب الدین پوپلزئی کا کہنا ہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو ختم نہیں کرنا چاہئے، ملک میں دو عیدوں پر مجھے بھی دکھ ہوتا ہے۔نجی ٹی وی سے سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کا کہنا تھا کہ احادیث کی کتابوں میں 29 مقامات پر چاند دیکھ کر عید کرنے کا ذکر آیا ہے تو

اب قمری کیلنڈر کے لیے شریعت کے اصول چھوڑے نہیں جا سکتے۔وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری سوچ سمجھ کر الفاظ کا استعمال کیا کریں، بد زبانی سے ان کی اپنی ہی ذات پر فرق پڑے گا۔فواد چوہدری کی جانب رویت ہلال کمیٹی کو ختم کرنے سے متعلق بیان پر مسجد قاسم علی خان کے مہتمم کا کہنا تھا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کوختم نہیں کرنا چاہئے، سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی کو تجاویز دی ہیں ان سے نا اتفاقی دور نہ ہو تو بتایا جائے۔ملک میں دو عیدوں سے متعلق سوال پر مفتی شہاب الدین پوپلزئی کا کہنا تھا کہ ملک میں دو عیدوں سے مجھے بھی دکھ ہوتا ہے ہمارے پاس شریعت کا اصول موجود ہے جس کے تحت یہ بے اتفاقی ختم ہو سکتی ہے۔خیال رہے کہ چند روز قبل وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے چاند دیکھنے کے لیے ویب سائٹ کا افتتاح کرتے ہوئے آئندہ 5 سالوں کے لیے عیدوں کی تاریخ کا اعلان بھی کر دیا تھا۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں رویت ہلال کمیٹی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…