منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

میاں افتخار کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ ،تحریک انصاف والے اتنا ظلم کریں جو کل خود بھی برداشت کر سکیں ،سابق وزیر

datetime 31  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار کو ڈسٹرکٹ کورٹ نے ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز اے این پی مرکزی رہنما میاں افتخار کو گزشتہ روز ہجوم پر فائرنگ کرنے اور ایک شخص کے قتل کے الزام میں گرفتاری کے بعد ریمانڈ کے لئے ڈسٹرکٹ کورٹ نوشہرہ میں پیش کیا گیا ہے ڈسٹرکٹ کورٹ میں پولیس نے درخواست دائر کی ہے کہ ملزم پر درخواست گزار کی طرف سے قتل کا الزام لگایا گیا ہے لہذا تفتیش کے لئے ملزم کا ریمانڈ دیا جائے جس پر عدالت نے ملزم کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ دیتے ہوئے اے این پی کے رہنما میاں افتخار کو ایک روز کے لئے پولیس کی تحویل میں دے دیا ۔ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخار نے کہا ہے کہ میرے اوپر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں نوجوان کی ہلاکت کیسے ہوئی مجھے معلوم نہیں میں نے کسی پر فائرنگ کی نہ محافظوں کو فائرنگ کا حکم دیا ۔ میاں افتخار نے کہا کہ ہم تو ہار گئے تھے ہم فائرنگ کیوں کرتے تحریک انصاف والے جیت کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کر رہے تھے ان کے اپنے کارکنوں کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوا ۔ سب کو پتہ ہے میں نے کچھ نہیں کیا میرے خلاف انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے ۔ تحریک انصاف والے اتنا ظلم کریں جو کل خود بھی برداشت کر سکیں انہوں نے کہا ہے کہ مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ۔ تحریک انصاف کا مشتعل ہجوم میرے دفتر پر چڑھ دوڑا بڑی مشکل سے بھاگ کر جان بچائی ۔ نوجوان کی ہلاکت ان کے ہاتھوں ہوئی ہے مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور مقدمہ بھی مجھ پر درج کیا گیا ۔ جو ناانصافی ہے ۔ میاں افتخار نے الیکشن کے نتائج ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں الیکشن نہیں ہوئے بلکہ انجیئرڈ طریقے سے اپنے بندے ایڈجسٹ کئے گئے ہیں ۔ پی ٹی آئی دھاندل کو چھپانے کے لئے سیاسی مقدمے درج کر رہی ہے لیکن ہم گھبرانے والے نہیں ۔ ایسے کئی مراحل سے ہم گزارے ہیں حالات کا مقابلہ کریں گے ۔

مزید پڑھئے:جہیز……. شادی یا کاروبار!

دھاندلی کے حوالے سے مرکزی قیادت ہی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی ۔ میاںافتخا ر نے گزشتہ روز جان بحق ہونے والے کارکن کے اہلخانہ سے تعزیت کی ہے اور کہا ہے کہ میری تمام ہمدردیاں لواحقین کے ساتھ ہیں اللہ لواحقین کو دکھ کی اس گھڑی میں صبر جمیل فرمائے میں ان کے بیٹے کی ہلاکت میں ملوث نہیں ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…