جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

عمران خان جسے وزیراعلیٰ پنجاب بنانا چاہتے تھے اسے نہیں بنا سکے،معاشی بد حالی کے باعث حکومت کی کامیابیاں نظر انداز ہو گئیں، جہانگیر ترین کھل کربول پڑے

datetime 23  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ معاشی بد حالی کے باعث حکومت کے اچھے کام اور کامیابیاں بھی نظر انداز ہو گئی۔ بجلی چوروں سے 58 ارب روپے اکھٹے کئے، 80 فیصد فیڈرز پر بجلی چوری روک دی جبکہ 3 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی۔ عمران خان جسے وزیراعلیٰ پنجاب بنانا چاہتے تھے اسے نہیں بنا سکے عثمان بزدار تجربے کے ساتھ ساتھ بہتر کام کر رہے ہیں

کارکردگی نہ دیکھانے والوں کو تبدیل کرنے میں وزیراعظم عمران خان دیر نہیں لگاتے۔ جمعرات کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ آج ہم مسائل میں گرے ہیں غیر یقینی صورتحال نے ہمیں یہاں تک پہنچایا معاشی بہتری کے لئے اکنامک ٹیم تبدیل کی، تبدیلی کے نتائج نظرآ رہے ہیں۔ نئی ٹیم کے آنے سے ہم غیر یقینی صورتحال سے نکل آئیں گے انہوں نے کہا کہ معاشی خرابی کے باعث ہمارے اچھے کام بھی چھپ گئے موجودہ حکومت نے بجلی چوروں سے 58 ارب روپے اکھٹے کئے 3 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کر کے قابل عمل بنایا جبکہ پاکستان میں 80 فیصد فیڈرز پر بجلی چوری روک دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ بجلی پر نجی شعبے کے 470 ارب روپے کے واجبات ہیں کوشش ہے کہ جون 2020 تک گردشی قرضہ ختم کر دیں انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری بورڈ کے چیئر مین عمران خان کے توقعات پر پورا نہیں اتر رہے تھے جو بھی توقعات پر پورا نہیں اترے کا اسے تبدیل کر دیا جائے گا کارکردگی نہ دیکھانے والے کو ہٹانے میں وزیراعظم عمران خان دیر نہیں لگائیں گے پنجاب میں بلدیاتی قانون پاس ہونا تحریک انصاف حکومت کی بڑی کامیابی ہے عمران خان اپنی مرضی کے شخص کو وزیراعلیٰ پنجاب نہیں لگا سکے تا ہم وزیراعلیٰ عثمان بزدار تجربے کے ساتھ ساتھ بہتر کام  کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی معیشت کے کام بے لگام تھے سخت فیصلے کر کے  معیشت کو کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کراچی کے حوالے سے کئے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں گے کراچی سے پراپرٹی ٹیکس کی مد میں بھاری رقم اکھٹی کی جا سکتی ہے جہانگیر ترین نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کاا حساس ہے بجٹ میں غریب طبقے کے لئے سبسڈی رکھیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…