بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے سیکرٹری خزانہ کو فارغ کردیا ،یونس ڈھاگہ کی جگہ کسے اس بڑے عہدے پر نواز دیا گیا؟جانئے

datetime 23  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) کے چیئرمین ہارون شریف نے گزشتہ روز  استعفیٰ وزیر اعظم کو بھجوا دیا جس کے بعد آج سیکریٹری خزانہ یونس ڈھاگا کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ان کی جگہ سیکرٹری کابینہ ڈویژن نوید کامران بلوچ کو سیکرٹری خزانہ لگا دیا گیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مذاکرات کے معاملے پر وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور سیکریٹری خزانہ یونس ڈھاگا کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ یونس ڈھاگا کا ماننا ہے کہ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے پاکستان کے لیے نامناسب معاہدے پر مذاکرات کیے۔مشیر خزانہ اور سیکریٹری خزانہ کے درمیان اختلافات آئی ایم ایف سے مذاکرات کے آخری مرحلے میں پیدا ہوئے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر خزانہ اسد عمر کی زیرِ صدارت ٹیم، جس میں یونس ڈھاگا بھی شامل تھے، اس میں آئی ایم ایف پروگرام کو آسان بنایا گیا تھا۔دوسری جانب حفیظ شیخ پروگرام کو ‘ فرنٹ لوڈڈ ‘ چاہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے مشکل اصلاحات کو طویل عرصے کے بجائے پہلے مکمل کرنا چاہتے ہیں۔اسی وجہ سے مشیر خزانہ اور سیکریٹری خزانہ میں اختلافات پیدا ہوئے اور آئی ایم پروگرام طے ہونے سے قبل آخری چند مراحل میں یونس ڈھاگا نے کوئی کردار بھی ادا نہیں کیا۔اس کے ساتھ ہی سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین ہارون شریف نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے استعفے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے ایک نئی اقتصادی ٹیم تشکیل دی، جس کی تمام تر توجہ آئی ایم ایف پر مرکوز تھی اور گزشتہ مہینوں میں ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ میں کیے جانے والے اقدامات پر اس ٹیم کی توجہ مرکوز نہیں تھی۔

ہارون شریف کا کہنا ہے کہ کئی مہینوں کی جدوجہد کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق مذاکرات فیصلے سے قبل حتمی مراحل میں داخل ہوگئے ہیں لیکن نئی اقتصادی ٹیم کی تعیناتی اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کی وجہ سے میرے کام پر توجہ نہیں دی جارہی۔ انہوں نے کہا کہ ‘سرمایہ کار انتظار نہیں کرتے، اگر پاکستان نہیں تو وہ کسی دوسری جگہ چلے جائیں گے۔ہارون شریف نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ برے نتائج کے لیے ذمہ دار ٹھہرائے جانے سے قبل استعفیٰ دینے کا یہ صحیح وقت ہے۔سرمایہ کاری بورڈ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کی معاونت کرنے والے اداروں میں سے ایک ہے۔ہارون شریف نے ‘کاروباری میں آسانی’ سے متعلق پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کو ترجیح دی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، فود پروسیسنگ، ٹیکسٹائل اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…