جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

خانہ کعبہ کی نایاب تصویر پونے چار کروڑ روپے میں فروخت

datetime 18  مئی‬‮  2019 |

لندن(این این آئی) مکہ شریف کی ایک قدیم ترین اور نایاب تصویر ڈھائی لاکھ ڈالر ( پونے چار کروڑ روپے) میں فروخت ہوئی ہے۔ اس تصویر کے پیچھے ایک کہانی پوشیدہ ہے کہ اسے ایک ایسے شخص نے کھینچا تھا جو مسلمانوں کا روپ دھار کر مکہ اور حجاز میں جاسوسی کی غرض سے داخل ہوا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے کرسچیان سنوک ہرگونج نے جدہ میں ولندیزی سفارت خانے میں

رہتے ہوئے ڈیڑھ سال کی مدت میں دو کتابیں بھی لکھی تھیں۔کرسچیان اسنوک نے انڈونیشیا میں ڈچ ایسٹ کمپنی کی توسیع کے دوران یہ مشن انجام دیا تھا۔ وہ اپنی اسلامی معلومات کی بنا پر سعودی عرب اور خلیج میں مقیم اس وقت انڈونیشیائی اہلکاروں کی جاسوسی کے لیے ایک موزوں ترین امیدوار بھی تھا۔دوسری جانب ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کو بااثر انڈونیشیائی امرا اور آج کے سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی سن گن لینے کی ذمے داریاں بھی سونپی گئی تھیں۔ قبل ازیں کرسچیان نے ہالینڈ کی لائیڈن یونیورسٹی میں اسلامی تاریخ اور علوم کو اچھی طرح پڑھا تھا۔منظرِ عام پر آنے والے اس کے دوستوں کو لکھے گئے خطوط میں تحریر ہے کہ عام مسلمان بھی اسے مسلمان سمجھتے ہیں اور اس پر اعتبار کرتے ہیں۔ اس نے اپنے سفر کے دوران مکہ اور مدینہ سمیت حاجیوں، زائرین اور ان کے رہن سہن کی تصاویر بھی لی تھیں۔ اس طرح کرسچیان سنوک ہرگونج کو مکہ جانے والا پہلا مغربی جاسوس یا اسکالر کہا جاسکتا ہے لیکن ہر جگہ اس نے اپنا نام عبدالغفار ہی استعمال کیا تھا۔سال 1873ء سے 1914ء تک جاری انڈونیشیائی جنگ میں اس نے بغاوت کچلنے کے لیے ڈنمارک حکومت کی رہنمائی بھی کی تھی۔ اس کی کھینچی ہوئی ایک یادگار تصویر نیویارک کے مشہور نیلام گھر سدبے میں ڈھائی لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی ہے جس میں قدیم شہرِ مکہ اور خانہ کعبہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔اس کی تصاویر اور تحریریں اس کے اہلِ خانہ نے فروخت کے لیے پیش کی ہیں جو بہت مہنگی فروخت ہوئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…