بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

امریکا نے پاکستان کیلئے مختص فنڈ کہاں لگادیا؟پتہ چل گیا

datetime 12  مئی‬‮  2019 |

واشنگٹن(اے این این) امریکا نے پاکستان اور افغانستان کے لیے مختص ایک ارب 50 کروڑ ڈالر کا فنڈ میکسیکو امریکا سرحد کی تعمیر کے لیے دے دیا۔امریکا کے قائم مقام سیکریٹری دفاع پیٹرک شنہان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ’ہم نے ایک سو 20 میل طویل سرحد پر باڑ لگانے کے لیے ایک ارب 50 کروڑ ڈالر مختص کر دیے۔۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو مختص فنڈ اور مختلف ’کانٹریکٹ‘ میں کمی سے اتنا فنڈ جمع کیا گیا ہے۔امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز کے اکاؤنٹ سے 60 کروڑ ڈالر کم کیے گئے ہیں جبکہ پاکستان کے لیے مختص فنڈ میں سے نامعلوم رقم واپس لے لی گئی ہیں۔واضح رہے کہ افغانستان میں بڑھتے ہوئے حملوں کے باوجود امریکا نے اس کا فنڈ روک دیا۔پینٹاگون نے اعلان کیا تھا کہ مختص رقم کی واپسی سے حاصل ہونے والی رقم کو میکسیکو امریکا سرحد پر ایک سو 20 میل طویل سرحد پر باڑ لگانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات نہ صرف سست روی کا شکار ہوگئے ہیں بلکہ یہ عوام اور سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں میں کمی لانے میں بھی ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم افغان جنگ کو ختم کرنے کا فریم ورک تیار کرنے کے لیے آہستہ پر مستحکم پیش قدمی کر رہے ہیں، ہماری نظر میں تمام محرکات موجود ہیں۔زلمے خلیل زاد کا یہ بھی کہنا تھا کہ امن مذاکرات کافی نہیں ہیں کیونکہ تنازعات جنم لے رہے ہیں اور عام لوگ مارے جارہے ہیں، ہمیں مذاکرات میں تیزی لانا ہوگی۔

واضح رہے کہ امریکا اور طالبان نمائندوں کے درمیان گزشتہ برس اکتوبر سے اب تک قطر کے شہر دوحہ میں مذاکرات کے 6 ادوار ہوچکے ہیں جس میں حالیہ دور 3 روز قبل 9 مئی کو ہوا تھا۔تاہم افغان حکومت ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہے کیونکہ وہ کابل کو امریکا کی کٹھ پتلی قرار دیتی ہے۔حال ہی میں ہونے والے مذاکرات کے چھٹے دور سے متعلق طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’یہ مذاکرات مثبت رہے۔

اس میں پیشرفت ہوئی لیکن چند نکات کو حتمی شکل دینا باقی ہے۔مذکورہ بات چیت میں 2 نکات سب سے اہم ہیں جن میں ایک افغانستان سے مکمل طور پر غیرملکی افواج کا انخلا (طالبان کا مطالبہ) جبکہ دوسرا یہ یقین دہانی کہ افغان سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف دہشتگردی کی کارروائی میں استعمال نہیں ہوگی (امریکا کا مطالبہ)۔واضح رہے کہ دوحہ میں طالبان سیاسی دفتر کے سربراہ شیر محمد عباس استینکزئی اور طالبان کے بانی رہنما ملا برادر مذاکرات کرنے والے طالبان وفد کا حصہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…