بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

ایفی ڈرین کیس کے ملزمان کو وفاقی حکومت کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا رکن بنا دیا گیا

datetime 10  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(اے این این ) ایفی ڈرین کیس میں نامزد اہم ملزم کو وفاقی حکومت کی اسٹیئرنگ کمیٹی میں اہم ترین ذمہ داریاں دے دی گئیں۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملزم انصار فاروق چوہدری کو وفاقی وزیر برائے صحت کی سربراہی میں بنائی جانے والی اعلیٰ سطحی اسٹیئرنگ کمیٹی کا رکن تعینات کیا گیا جو اسلام آباد میں ہپیٹائٹس کنٹرول پروگرام کے نفاذ کے لیے کام کرے گی۔

انصار فاروق چوہدری کو ایفی ڈرین کیس میں ملزم نامزد کیا گیا تھا جس میں وزارت صحت نے محدود پیمانیپر درآمد کیا جانے والا کیمیکل ایفی ڈرین، دو ادویہ ساز کمپنیوں ایم/ایس برلکس اور ڈینیس کو 9 ہزار کلو کی مقدار میں جاری کیا تھا جسے مبینہ طور پر منشیات اسمگلروں کو فروخت کردیا گیا۔انصار فاروق چوہدری کو ہیپیٹائٹس کنٹرول پروگرام کی کمیٹی کے ملکی سربراہ کے طور پر تعینات کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ سرور فاؤنڈیشن میں بھی اس پروگرام سے منسلک تھے۔خیال رہے کہ سرور فاؤنڈیشن ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جسے گورنر پنجاب چوہدری سرور چلاتے تھے لیکن 24 اپریل کو انہوں نے اپنے آپ کو ان تنظیم کے معاملات اور عطیات جمع کرنے کی مہم سے علیحدہ کرلیا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مرکزی ملزم انصار فاروق چوہدری کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ اسی کیس میں نامزد شریک ملزم ڈائریکٹر جنرل (ہیلتھ) کی حیثیت سے شریک ملزم اسد حفیظ کو بھی کمیٹی کا رکن بنایا گیا ہے۔وزارت صحت کی ڈائریکٹر کووآرڈینیشن آئی سی ٹی ڈاکٹر شبانہ سلیم کے مطابق مذکورہ ٹوٹیفیکیشن وفاقی وزیر کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں کمیٹی کے کسی رکن کی ایفی ڈرین کیس میں نامزدگی کا علم نہیں۔یاد رہے کہ انصار فاروق چوہدری اور اسد حفیظ اور دیگر جس میں سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی اور مخدوم شہاب الدین شامل تھے، کا نام انسدادِ منشیات فورس کی جانب سے درج کروائی گئی ایف آئی آر اور اس کے چالان میں شامل تھا۔

انسدادِ منشیات فورس نے ملزمان کو گرفتار کیا تھا تا ہم اتفاقی طور پر ڈینیس فارما سوٹیکل کے فاروق چوہدری اور برلکس فارما کے حفیظ اور افتخار بابر کو 10 دسمبر 2012 کو ضمانت پر ریا کردیا گیا تھا۔استغاثہ کے مطابق ملزمان کو یہ ایفی ڈرین کا یہ کوٹہ عراق اور افغانستان و

برآمد کرنے کے لیے وزات صحت کی جانب سے فراہم کیا گی تھا۔اس بارے میں جب انصار فاروق چوہدری سے بات کی گئی تو انوں نے کہا کہ ان کا نام ان کی مہارت کی بنا پر کمیٹی میں شامل کیا گیا کیوں کہ وہ پہلے ہی سرور فاؤنڈیش میں انسدادِ ہیپیٹائٹس پروگرام سے منسلک تھے۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…