جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعداد 19 لاکھ سے تجاوز کر گئی

datetime 7  مئی‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)ملک میں انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والے ٹیکس دہندگان کی تعداد 19 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ایکٹو ٹیکس پییرز کی تعداد بڑھ کر 19 لاکھ 34 ہزار ہوگئی ہے جبکہ ٹیکس دہندگان کی جانب سے انکم ٹیکس گوشواروں کے ساتھ مجموعی طور پر32 ارب 50 کروڑ روپے

ٹیکس جمع کروایا گیا ہے جو پچھلے سال ٹیکس گوشواروں کے ساتھ جمع ہونے والے 29 ارب 20 کروڑ روپے ٹیکس کے مقابلے میں صرف ایک ارب 30 کروڑ زیادہ ہے۔ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کی جانب سے ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کے لیے مقررہ تاریخ میں بار بار توسیع کے باوجود 30 اپریل 2019 کو ختم ہونے والی ڈیڈ لائن تک ٹیکس ایئر 2018 کے لیے مجموعی طور پر 19 لاکھ 11 ہزار انکم ٹیکس گوشوارے وصول ہوئے جبکہ ٹیکس ایئر 2017 کے لیے ایف بی آر کو مجموعی طور پر 18 لاکھ 15 ہزار انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہوئے تھے۔اس لحاظ سے ٹیکس ایئر 2017 کے مقابلے میں ٹیکس ایئر 2018 میں ایف بی آر کو 96 ہزار انکم ٹیکس گوشوارے زیادہ وصول ہوئے ہیں۔ ان 96 ہزار ٹیکس دہندگان سے ایف بی آر کو ٹیکس گوشواروں کے ساتھ مجموعی طور پر ایک ارب 30 کروڑ روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ باربار ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ بڑھانے کے باوجود ایف بی آر کے ریونیو شارٹ فال پر کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ شارٹ فال کم ہونے کے بجائے بڑھا ہے۔ذرائع نے بتایاکہ دوسرے منی بجٹ کے بعد سے ٹیکس گوشواروں میںکی جانے والی بار بار توسیع سے 30 اپریل تک ایف بی آر کو ایک لاکھ کے لگ بھگ اضافی انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہوئے ہیں لیکن پچھلے سال کے مقابلے میں ٹیکس گوشواروں کے ساتھ صرف ایک ارب 30 کروڑ کا اضافی ریونیو آیا ہے جو بہت کم ہے۔ٹیکس ریٹرنز کے ساتھ اضافی ریونیو کم آنے کی ایک بڑی وجہ زیرو ٹیکس کے ساتھ ٹیکس گوشواروں کی بڑی تعداد ہے کیونکہ بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے نان فائلر کے طور پر اضافی ٹیکس ادائیگی سے بچنے کیلیے زیرو ٹیکس کے ساتھ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروائے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…