بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

نوازشریف کو جیل جانے سے پہلے زبردست جھٹکا ،حالیہ تبدیلیوں کے بعد10سے 12ارکان (ن)لیگ چھوڑنے کیلئے تیار، پی ٹی آئی میں شمولیت کے قوی امکانات

datetime 7  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیراعظم و بانی مسلم لیگ (ن )نوازشریف آج شام کسی بھی وقت کوٹ لکھپت جیل واپس چلے جائینگے دوسری جانب پارٹی میں حالیہ تبدیلوں کے بعد کئی ارکان (ن) لیگ چھوڑنے پر تیار ہو گئے ہیں۔ فارورڈ بلاک بننے کے بھی امکانات۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ( ن) لیگ کے کئی ارکان پارٹی کی حالیہ تبدیلیوں کے بعد حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

اکثر لیگیوں کا خیال تھا شہباز شریف اہم حلقوں سے معاملات طے کر لیں گے،اس حوالہ سے شہباز شریف کو یقین دہانی بھی کروائی گئی تھی کہ وہ معاملات کو سنبھال لیں گے۔مگر شہباز شرہف کی بیرون ملک روانگی اور مسلم لیگ (ن )میں نواز شریف کے ساتھیوں کی پارٹی کے اہم عہدوں پر نامزدگی سے کئی ارکان مایوس ہو گئے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے 10 سے 12 ایم پی ایز تحریک انصاف سے مسلسل رابطوں میں ہیں ان میں سے پانچ ارکان وہ بھی ہیں جنہوں نے اسپیکر الیکشن میں پارٹی امیدوار کی بجائے پرویز الٰہی کو ووٹ دیا تھا۔یہ ارکان گرین سگنل ملنے پر فارورڈ بلاک یا اپنی پارٹی سے الگ ہو سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق تحریک انصا ف نے (ن )لیگ کی ممکنہ جارحانہ پالیسی کا توڑ کرنے کے لیے ان کو مناسب وقت میں استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔ ان ارکان کو خصوصی فنڈ اور ان کے حلقوں میں فری ہینڈ دینے کی بھی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔واضح رہے کہ سعد رفیق نے ن لیگ کےمشاورتی اجلاس میں بھی کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔اسی حوالہ سے معروف صحافی علی درانی نے دعویٰ کیا ہے کہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ مجھ سے اب شریف خاندان کی مزید غلامی نہیں ہوتی۔سعد رفیق کہتے ہیں کہ میری لمبی داستان ہے۔ جب (ن )لیگ کی حکومت تھی تو شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بنے۔

تمام رہنما اپ گریڈ ہو گئے اور میں نے کہا کہ مجھے ریلوے میں رہنے کا شوق نہیں مجھے بھی کوئی اچھا محکمہ دیا جائے۔احسن اقبال وزیر داخلہ تھے،مریم اورنگزیب کے پاس بھی اچھا عہدہ تھا اور مجھے مال گاڑی کے اوپر چڑھا دیا۔اس کے باوجود میں نے الیکشن لڑا اور ایم پی اے بنا،میں نے کہا کہ مجھے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنا دیا جائے لیکن وہ بھی حمزہ شہباز کے حصے میں آیا،پھر میں نے کہا کہ مجھے پارلیمانی لیڈر بنایا جائے تو وہ بھی بنایا گیا اور مجھے کہا گیا کہ ہمایوں اختر کے مقابلے پر الیکشن جیتو میں وہ بھی جیت گیا،پھر میں نے کہا کہ مجھے پی اے سی کا ممبر بنایا جائے اور وہ بھی نہ بنایا گیا۔انہوں نے شہباز شریف ، نواز شریف یہاں تک کہ مریم نواز سے بھی درخواست کی تاہم ان کی نہ سنی گئی۔اس کے بعد انہوں نے تیس صدور بنائے اور مجھے آخری نمبر پر رکھا۔علی درانی کا مزید کہنا ہے کہ سعد رفیق پارٹی کو چھوڑیں گے نہیں پارٹی کے اندر ہی رہیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…