منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

 آصف  زرداری مشاورت کے بغیر فیصلہ کرنے پر خورشید شاہ پر برس پڑے،پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیدیا،خورشید شاہ اور رخسانہ بنگش کے درمیان بھی تلخ کلامی 

datetime 5  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری مشاورت کے بغیر (ن)لیگ کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی(پی اے سی) تبدیلی کی اجازت دینے پر خورشید شاہ پر برس پڑے اور کہا ہے کہ پارٹی چیئرمین سے مشاورت کیے بغیر ایسے اہم فیصلوں میں بات کرنا پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔آن لائن کو ذرائع نے بتایا کہ سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے پارٹی کی مشاورت کے بغیر ذاتی حیثیت میں (ن)لیگ کی قیادت سے چیئرمین پی اے سی  کی تبدیلی کے حوالے سے مشاورت کی اور کہا کہ آپ چیئرمین پی اے سی تبدیل کرلیں۔

مگر خورشید شاہ نے  اس حوالے سے پارٹی قیادت کو نہیں بتایا جب مسلم لیگ(ن) کی طرف سے چیئرمین پی اے سی تبدیل کردیا گیا تو پیپلزپارٹی نے اس پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ن لیگ نے بغیر مشاورت کے پی اے سی کا چیئرمین تبدیل کردیا ہے اور رانا تنویر حسین کو چیئرمین پی اے سی بنا دیا ہے اس پر پیپلزپارٹی کی ترجمان نفیسہ شاہ نے پریس کانفرنس بھی کرڈالی جبکہ گزشتہ روز پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ خورشید شاہ کی ملاقات ہوئی،اس ملاقات میں شریک چیئرمین پیپلزپارٹی آصف علی زرداری، فرحت اللہ بابر، رخسانہ بنگش بھی موجود تھیں۔ملاقات میں خورشید شاہ نے کہا کہ میری ن لیگ کی قیادت کیساتھ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی تبدیلی کے حوالے سے بات ہو گئی تھی اس پر آصف علی زرداری خورشید شاہ پر برس پڑے اور خورشید شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پارٹی مشاورت کے بغیر اتنا اہم فیصلہ کیوں کیا اور ذاتی حیثیت میں بات کیوں کی ہے؟ آپ کا  یہ اقدام پارٹی پالیسی کے خلاف ہے۔ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور سابق سینیٹر رخسانہ بنگش کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی جس پر میٹنگ میں موجود دیگر رہنماؤں نے دونوں کو خاموش کروادیا لیکن خورشید شاہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ آپ کے ن لیگ سے تعلقات ہوں گے لیکن یہ پارٹی پالیسی کے خلاف ہے۔ذرائع نے بتایا کہ سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ ن لیگ کے دور میں ان کے بہت قریب رہے ہیں

جس کی وجہ سے پارٹی پر الزام آتا رہا ہے کہ پیپلزپارٹی فرینڈلی اپوزیشن کررہی ہے لیکن خورشید شاہ نے ذاتی مفادات کو پارٹی پالیسی پر ترجیح دی اور ن لیگ کا ہر مسئلے میں ساتھ دیتے رہے۔اس تعلق کی وجہ سے انہوں نے چیئرمین پی اے سی کی تبدیلی پر بھی اپنی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا۔ذرائع نے بتایا کہ پیپلزپارٹی نے چیئرمین پی اے سی بنتے وقت شہبازشریف کا ساتھ دیا اور کہا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا حق ہے کہ وہ چیئرمین پی اے سی بنیں جبکہ اپوزیشن لیڈر کے لئے پیپلزپارٹی کو بھی آفر دی گئی تھی لیکن پیپلزپارٹی نے اصولی موقف اپناتے ہوئے انکار کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…