جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھرمیں50 فیصد آن لائن شاپس خواتین چلا رہی ہیں،سعودی وزارت تجارت

datetime 25  اپریل‬‮  2019 |

ریاض(این این آئی )سعودی عرب کی وزارت تجارت و سرمایہ کاری نے کہا ہے کہ اس وقت سعودی عرب میں کام کرنے والی 50 فیصد آن لائن شاپس خواتین چلا رہی ہیں۔سعودی عرب کے مخصوص حالات کے پیش نظر یہ طریقہ کاروبار خواتین کے لیے زیادہ محفوظ اور مناسب معلوم ہوتا ہے۔

سعودی اخبار سے بات چیت میں آن لائن تجارت کرنے والی خاتون منال الیحیی نے بتایا کہ بیشتر آن لائن شاپس ان معروف کمپنیو ںکی ہیں جن کی بڑی بڑی دکانیں سعودی عرب کے مختلف شہروں میں موجود ہیں۔ یہ کمپنیاں اپنی مصنوعات کو رواج دینے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کررہی ہیں۔اس شعبے میں قسمت آزمائی کرنے والے بیشتر لوگوں کا شمار چھوٹے تاجرو ںمیں ہوتا ہے۔ان میں خواتین سب سے زیادہ ہیں۔آن لائن تجارت کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ خود کو اس فارم میں رجسٹرڈ کرائیں۔منال الیحیی کا کہنا تھا کہ گھر بیٹھی خواتین اپنا فارغ وقت آن لائن تجارت کرتی ہیں جس سے انہیں مناسب آمدنی ہوجاتی ہے۔ ان خواتین کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ خود کو رجسٹرڈ کریں۔رجسٹریشن کے بعد انہیں وزارت تجارت کی فیسیں ادا کرنا ہوں گی جو ان کے بس کی بات نہیں۔ وزارت تجارت کو چاہیے کہ وہ اس طبقے کے مسائل حل کرے۔وزارت تجارت و سرمایہ کاری کے ترجمان عبدالرحمن الحسین نے واضح کیا کہ وزارت تجارت نے ابتدائی طور پر آن لائن تجارت کو منظم کرنے کیلئے معروف ای فارم مہیا کیا ہے۔وزارت تجارت و سرمایہ کاری کے مطابق مشرق وسطی میں چھ ممالک ایسے ہیں جن میں آن لائن تجارت کو فروغ حاصل ہورہا ہے۔ ان میں سعودی عرب سرفہرست ہے۔ دوسرے نمبر پر امارات، تیسرے پر مصر ، چوتھے پر کویت ، پانچویں پر لبنان اورچھٹے پر اردن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…