پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

سرکاری ملازمت کے خواہشمندوں کیلئے بڑی خوشخبری ،مختلف محکموں میں گریڈ 1 تا 17 کی 41 ہزار اسامیاں پر بھرتیوں کے احکامات جاری

datetime 20  اپریل‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی محکموں کو ہدایت کی کہ وہ گریڈ 1 تا 15 کی خالی اسامیوں پر خالصتا میرٹ اور شفاف طریقے کار کے ذریعے 41 ہزار ملازمین کی بھرتی کا عمل شروع کریں۔انہوں نے یہ بات موجودہ خالی اسامیوں پر بھرتیوں کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں کابینہ کے تمام اراکین، چیف سیکریٹری سندھ ممتاز شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم اور تمام صوبائی سیکریٹریز نے شرکت کی۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ مختلف محکموں میں گریڈ 1 تا 17 کی 41 ہزار اسامیاں خالی ہیں، میں چاہتا ہوں کہ یہ تمام اسامیاں پر کی جائیں تاکہ مختلف محکموں کی کارکردگی بہتر ہوسکے اور اہل و مستحق امیدواروں کو روزگار کے مواقع بھی مہیا ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ تمام بھرتیاں شفاف طریقے اور خالصتا میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ گریڈ 1 تا 4 پر بھرتیاں مقامی سطح پر سلیکشن کمیٹیوں کے ذریعے کی جائیں گی جس میں فنانس ، ایس اینڈ جی اے ڈی کے نمائندے شامل ہوں گے۔وزیراعلی سندھ نے صوبائی سیکریٹریز کو بھی ہدایت کی کہ خواتین اور معذور افراد کو ان نئی بھرتیوں میں ان کا کوٹہ دیاجائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ گریڈ 5 تا گریڈ 15 پر بھرتیاں ٹیسٹنگ سروسز / تھرڈ پارٹی کے ذریعے کی جائیں گی تاکہ میرٹ کا خیال رکھا جاسکے۔وزیراعلی سندھ نے صوبائی وزیرتعلیم سید سردار شاہ کو ہدایت کی کہ وہ ایک علیحدہ طریقے کار کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی کا عمل شروع کریں ۔ اساتذہ کی یہ بھرتیاں ہراسکول کی ضرورت کے تحت ہوں گی تاکہ اساتذہ کی کمی کے مسئلے پر قابو پایاجاسکے۔صوبائی وزیرتعلیم سید سردار شاہ نے وزیراعلی سندھ کو یقین دلایا کہ اساتذہ کی بھرتیاں گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران مکمل کرلی جائیں گی۔ واضح رہے کہ اساتذہ کی اسامیاں موجودہ 41 ہزار اسامیوں کے علاوہ ہیں۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے ڈاکٹروں کی کمی کے مسئلہ پر کہا کہ 1700 ڈاکٹروں کی ریکیوزیشن سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سلیکشن کے لیے کی گئی ہیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ڈاکٹروں کی تعیناتی کنٹریکٹ پر واک ان انٹریو کے ذریعے اسپیسیفک اسپتال کی بنیاد پر تعیناتی کی جاسکے گی۔6 ماہ کے عرصے کے بعد انہیں سندھ پبلک کمیشن کی جانب ریفر کر دیاجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…