پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس شعبے کے استحکام کیلئے پالیسی میں اصلاحات لانا ہوں گی : لاہور چیمبر

datetime 19  اپریل‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر، سینئر نائب خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے حکومت پر زور دیا ہے کہ زرعی شعبہ میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تباہی سے متاثرہ کسانوں کی فوری معاونت کرے۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ تباہ کن بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث ناصرف گندم اور دیگر فصلوں کو

بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ بلکہ وسطی اور جنوبی پنجاب کے کسانوں کو بڑا مالی دھچکا لگا ہے۔صرف پنجاب میں ہی گندم کی تقریبا ڈیڑھ لاکھ ٹن ،کٹائی کے لئے تیار فصل مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کو نقصان اور کسانوں کو معاوضہ دینے کا تخمینہ لگانے کیلئے فورا سروے کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ طوفانی بارشوں نے نہ صرف گندم کی تیارفصل تباہ کی ہے بلکہ اس سے کپاس اور دیگر فصلوں کی بوائی بھی تاخیر کا شکار ہو گی، جو ملکی معیشت کے لئے اچھی بات نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ،تاہم اس شعبے کے استحکام کیلئے پالیسی میں اصلاحات لانا ہوں گی، ورنہ آئندہ دو دہائیوں میں ہمارا فی ہیکٹر کاشتکاری رقبہ کم ہو جائے گا اور غذائی پیداوار میں 30فیصد تک کمی واقع ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستا ن چار بڑی فصلوں کی پیداوار میں دنیا کے سب سے زیادہ پیداوار رکھنے والے تین ممالک ، جن میں چائنہ اور مصر بھی شامل ہیں ، اس سے تین گنا پیچھے ہے۔ پاکستان کی 43فیصد افرادی قوت زراعت کے شعبے سے منسلک ہے، تاہم کم پیداوارسے دیہاتی علاقوں میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے ، ساتھ ہی ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے زرعی درآمدات بھی بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مقابلے میں چائنہ کی کپاس اور گندم کی فی ہیکٹر پیداوار دوگنا جبکہ مصر کی چاول اور گنے کی فی ہیکٹر پیداوار تین گنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے متاثرہ کسانوں کو فوری طور پر امدادی اقدامات کرے۔ کسان فصل کی تیاری میں بیج ، پیسٹیسائیڈز(کیڑے مار ادویات) اور دیگر اخراجات کیلئے قرضے لیتے ہیں۔اگرحکومت کی جانب سے ان کی مدد نہ کی گئی تو کسان دیوالیہ ہو جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…