پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

بنگلہ دیش : مدرسے کی 18سالہ طالبہ قتل کا معمہ ملکی اور غیر ملکی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا

datetime 17  اپریل‬‮  2019 |

ڈھاکہ(این این آئی)بنگلہ دیش میں مدرسے کی 18 سالہ طالبہ نصرت جہاں کے قتل کا معمہ ملکی اور غیر ملکی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے مدرسے کی مقتول طالبہ نصرت جہاں کے والدین سے ملاقات میں مکمل انصاف کی یقین دہانی کرادی۔شیخ حسینہ نے یقین دلایا کہ قتل میں ملوث ہرایک ملزم کو کیفرکردار تک پہنچایا جائیگا۔واضح رہے کہ چٹاگانگ کے ضلع فینی میں

سونگازئی کے ڈگری مدرسہ ’سونگازئی اسلامیہ فیضل‘ کی طالبہ نصرت جہاں کو مبینہ طور پر 6 اپریل کو مٹی کا تیل چھڑ کر آگ لگا دی تھی۔بعدازاں نصرت جہاں کو ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کا جسم 80 فیصد تک جھلس چکا ہے۔ڈاکٹروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ نصرت جہاں نے خود کشی نہیں کی بلکہ انہیں جلایا گیا۔نصرت جہاں دوران علاج 10 اپریل کو دم توڑ گئیں تھی۔مقامی میڈیا کے مطابق ’نصرت جہاں نے مدرسے کے پرنسپل سراج الدولہ کے خلاف ریپ کی کوشش کا الزام لگایا تھا تاہم مقتولہ پر مقدمہ واپس لینے کا دباؤ تھا۔اس حوالے سے پولیس بیورو آف انویسٹی گیشن چیف بناج کانتی نے دوران پریس کہا تھا کہ نصرت جہاں کے قتل کے الزام میں دو لڑکیوں سمیت 13 افراد کو حراست میں لے لیا۔انہوں نے کہا کہ ایک ٹیچر کو بھی گرفتار کیا گیا۔دوسری جانب مدرسے کے پرنسپل سراج الدولہ 27 مارچ سے گرفتار ہیں۔پولیس کی تفتیش میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ’نصرت جہاں کے قتل سے قبل متعدد لوگوں نے جیل میں پرنسپل سے ملاقات کی اور ممکنہ طور پر انہوں نے 18 سالہ طالبہ کو قتل کرنے کی ہدایت دی تھی۔نصرت جہاں کے بھائی نے بیان دیا کہ ’قتل کے روز ان کی بہن امتحان دینے گئی تھی جہاں چار لوگ نصرت جہاں کو بھلا پھسلا کر چھت پر لے گئے اور سراج الدولہ کے خلاف درخواست واپس لینے کے دباؤ ڈالا لیکن نصرت نے انکار کردیا۔انہوں نے کہا کہ ’نصرت کا انکار سننے کے بعد مشتبہ افراد نے مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگادی اور نصرت جلتے ہوئے بدن کے ساتھ مدرسے کی سیڑھیوں پر منھ کے بل گرتے ہوئے مدد طلب کرتی رہی۔نصرت جہاں کے مبینہ قتل کے بعد بنگلہ دیش کے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ مقتولہ کو انصاف دلانے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…