پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ریلوے کے 27 انجنوں کی مرمت کے نام پر اربوں روپے کا ڈاکہ، من پسند کمپنی کو ٹھیکہ دے کر کنٹریکٹ کی ہیئت بعد میں بدل دی گئی

datetime 13  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد ( آن لائن ) پاکستان ریلوے انجن کی بحالی کے نام پر 6 ارب 30 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ وزارت ریلوے اپنی عمر پوری کرنے والے 27 ریلوے انجنوں کو دوبارہ بحال کرکے مال ٹرینوں میں لگانے کا فیصلہ کیا جس کی ابتدائی لاگت کا تخمینہ 3 ارب 18 کروڑ روپے تھا تاہم وزارت ریلوے کے کرپٹ افسران نے 27 ریلوے انجنوں میں سے صرف پندرہ انجنوں کو مرمت کرنے میں کامیاب ہوئے جس پر لاگت چھ ارب سے زائد خرچ کردی۔

جبکہ باقی بارہ ریلوے انجن اب بھی ناکارہ ہوچکے ہیں اور انہیں زنگ آلود کردیا گیا ہے۔ وزارت ریلوے کی حساس دستاویزات میں معلوم ہوا ہے کہ ریلوے انجن کی مرمت میں تاخیر سے ادارہ کو 86 کروڑ روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے جبکہ متعلقہ کمپنیوں کو کنٹریکٹ کے علاوہ نو کروڑ روپے ادا کئے گئے ہیں متعلقہ افسران نے ریلوے انجن کی مرمت کے نام پر 30 کے لگ بھگ اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھرتی کرلیا ہے دستاویزات میں پتہ چلتا ہے کہ افسران نے انجنوں کی مرمت کے لئے وصول کئے گئے 36 کروڑ خرچ ہی نہیں کئے بلکہ اپنی شاہ خرچیوں پر خرچ کیلئے مختص کرلئے ریلوے کے کرپٹ افسران نے 27 انجنوں کی مرمت کے لئے 4 ارب 33 کروڑ 61 لاکھ کے پرزے مختلف عالمی کمپنیوں سے خریدے جن میں بھاری مالی نقصانات اور کرپشن کی گئی ہے کی تحقیقات تاحال مکمل نہیں ہوسکیں اس سکینڈل میں ملٹی نیشنل کمپنی ایم ایم ڈی ایل کا کردار بھی کھل کر سامنے آگیا ہے اس کمپنی کو پروکیورمنٹ کے ممبران نے رعایت اور مدد دی۔ کرپٹ افسران نے کمپنی کے سامنے معائدہ کرنے کے بعد مختلف اشیاء کی ہیت بھی بدل دی جس سے بھاری مال کمایا گیا تھا پرزے پاکستان میں لانے کے قبل ان کا معیار بھی چیک نہیں کیا گیا اور کمپنی کو بے پناہ فوائد دیئے گئے جبکہ کروڑوں روپے کے پرزے غیر معیاری خریدے گئے جو اب بھی ریلوے ورکشاپوں میں پڑے ہیں۔ اربوں روپے کے منصوبہ کی ڈیوٹی گئی تھی

جس کی وجہ سے مر مت غیر معیاری ثابت ہوئی ریلوے کی کرپشن کا یہ نیا سکینڈل کو ریلوے افسران نے فائلوں مین دبا دیا ہے اور تحقیقات مکمل ہی نہیں کرنے دی تاہم شیخ رشید نے اس سکینڈل کا تمام ریکارڈ حاصل کرلیا ہے اور پورے معاملے کا جائزہ لے رہے ہین تاہم شیخ رشید کی قومی دولت کرپٹ افسران سے واپس لانے کی رفتار انتہائی سست ہے ریلوے کے کرپٹ افسران اربوں روپے ڈکار کر موجیں کرنے میں مصروف پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں۔ ریلوے ہیڈ کوارٹر میں اربوں کی کرپشن کرنے والوں کو اعلیٰ عہدے دیئے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…