جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے اربوں ڈالرز دینے پر رضامندی ظاہر کردی

datetime 2  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)فیڈرل فلڈکمیشن کے چیئرمین احمد کمال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی آبی وسائل کو بتایا ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے اڑھائی ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیاہے ، فنڈز ملنے سے سیلاب کی روک تھام کے منصوبوں کی تکمیل میں مدد ملے گی ، کمیٹی نے سیلاب کی روک تھام کیلئے فیڈرل فلڈ کمیشن کی کار کردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ، کمیشن کی باتیں محض زبانی جمع خرچ ہیں عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا ۔

منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی آبی وسائل کا اجلاس نواب یوسف تالپور کی زیر صدارت ہوا ، فیڈرل فلڈکمیشن کے چیئرمین بتایا کہ سیلاب کی روک تھام کیلئے 332ارب روپے لاگت کے دس سالہ فلڈپروٹیکشن پلان کی منظوری دی جا چکی ہے ،انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں واٹرسیکٹر کو نظر انداز کیا گیا پانی کے منصوبوں کیلئے بہت کم فنڈنگ جاری ہوئی ، فیڈرل فلڈ کمیشن کے چیئرمین نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں پاکستان کا کوئی مستقل انڈس واٹر کمشنر ہی نہیں بھارت کے ساتھ متنازع آبی منصوبوں پر کیسے بات ہو گی ۔انہوں نے بتایا گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اس سال برف باری زیادہ ہوئی ہے مون سون سے متعلق محکمہ موسمیات مئی میں اپنی پیش گوئی کرے گا ، تاہم دو تین سال بعد سیلاب کا خدشہ ہو تا ہے ، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جب ابھی تک کو ئی پیش گوئی ہی نہیں تو سیلاب کی بات کرنا قبل از وقت ہے ، رکن کمیٹی مریم اورنگ زیب نے کہا فیڈرل فلڈکمیشن کا ڈیٹا ہی بہت پرانا ہے معلوم نہیں کمیشن کرتا کیا ہے چیئرمین فیڈرل فلڈکمیشن ہر معاملہ دوسرے اداروں کی طرف ریفر کر رہے ہیں مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ حقیقت ہے جب سیلاب آتا ہے صرف مدد کیلئے فوج ہی ہوتی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…