منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

برطانوی تاریخ کا بڑا تعلیمی سکینڈل !پی ایچ ڈی مقالوں کی سرعام خریدوفروخت،طلبا کو کیسے گھیرا جاتا ہے؟سنسنی خیز انکشافات

datetime 1  اپریل‬‮  2019 |

لندن(صباح نیوز) برطانیہ میں تعلیمی ڈگریوں کی خریدو فروخت سے متعلق ایک بڑا سکینڈل سامنے آ گیا۔آکسفورڈ اور کیمرج کے طلبہ بھی خریدو فروخت کی منڈی کا حصہ بن گئے۔ برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ

ملک میں آن لائن ملز ہیں جو پی ایچ ڈی کے مقالے 4 لاکھ روپے سے 11 لاکھ روپے میں بیچ رہی ہیں۔ملز کی فخریہ پیشکش ہے کہ طالبعلم کا کام صرف پہلے صفحے پر اپنا نام لکھنا ہوگا، باقی مواد لکھا لکھایا مل جائے گا۔ اخبار کے مطابق اگر مقالہ پسند نہ آئے تو تبدیل کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔ ایک مل نے اعتراف کیا کہ اسے روزانہ 100 آرڈر ملتے ہیں، جن میں سے 15 سے 20 پی ایچ ڈی کے مقالوں کے ہوتے ہیں، 80 ہزار الفاظ پر مشتمل پی ایچ ڈی کا مقابلہ 4 ماہ میں تیار کر کے حوالے کردیا جاتا ہے۔اخبار نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ آن لائن فرمز کینیا میں پڑھے لکھے افراد سے مقالے لکھواتی ہیں۔ کنگز اکیڈمک مل نے طلبہ کے بھیس میں بات کرنے والے صحافی کو بتایا کہ وہ سالانہ 12ہزار برطانوی طلبہ کو مقالے بیچ رہی ہے۔ 12ہزار میں سے 50 خریدار آکسفورڈ اور کیمبرج میں پی ایچ ڈی کے طلبہ ہیں، تاہم آکسفورڈ اور کیمبرج نے لکھے لکھائے مقالوں پر پی ایچ ڈی ڈگری دینے کا الزام مسترد کردیا ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…