جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

نوازشریف کے ’’دل کی دھڑکن ‘‘کو ترتیب میں لانے کیلئے پیس میکر اور آئی سی ڈی کی تجویز،ڈاکٹرز نے انتہائی تشویشناک خبر سنادی

datetime 30  مارچ‬‮  2019 |

لاہور (این این آئی )پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد و سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کے دل کی بائیں شریان کے صحیح طورپر کام نہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد ان کے معالجین نے اگلے ہفتے مزید ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔گزشتہ روزسابق وزیراعظم محمد نواز شریف کو اپنی رہائشگاہ جاتی امراء رائے ونڈ سے شریف میڈیکل سٹی لایاگیا جہاں معالجین نے ان کے مختلف ٹیسٹ کئے۔

اس موقع پر ان کی ای سی جی بھی کی گئی۔ معالجین نے ای سی جی میں بے ترتیبی پائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ دل کی دھڑکن کی ترتیب میں اتارچڑھاؤ معمول کے مطابق نہ ہونا اچھی علامت نہیں۔ ڈاکٹروں نے دل کی دھڑکن کو ترتیب میں لانے کے لئے پیس میکر اور آئی سی ڈی کی تجویزدی ہے۔ ان مشینوں کے استعمال کا مقصد دل کی دھڑکن کو ایک حد سے نیچے جانے سے بچانا ہوتا ہے۔ اس موقع پر معالجین نے محمد نوازشریف کی آنکھوں اور آنکھوں کے اندرونی حصے کا بھی مشین کے ذریعے معائنہ کیا اور ذیابیطس کے آنکھوں کے اندرونی حصوں پر اثرات کا جائزہ لیا۔ معالجین نے دل کی دھڑکن جانچنے کی جدید مشین کے ذریعے ہولٹر اور ایکو ٹیسٹ اگلے ہفتے کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ہولٹر کے ذریعے دل کی دھڑکن کی چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے تک مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ معالجین کے درمیان مریض میں پائی جانے والی علامات اور ان کے نتائج کے حوالے سے طویل صلاح مشورہ ہوا۔ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ذرائع کے مطابق نواز شریف کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹرز مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں اور علاج کے حوالے سے جلد حتمی فیصلہ کیا جائے گا ۔نواز شریف تقریباً ڈھائی گھنٹے شریف میڈیکل سٹی میں موجود رہنے کے بعد واپس اپنی رہائشگاہ روانہ ہو گئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…