جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

بچوں کی پڑھائی میں عدم دلچسپی ،وجہ والدین خود بھی ہوسکتے ہیں مگر کیسے ؟ماہرین نفسیات کے حیرت انگیز انکشافات 

datetime 21  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک )اوہایواگر آپ کا بچہ سکول نہ جانے کے لیے ہر روز بہانے گھڑتا ہے اور صبح اْٹھنے میں ٹال مٹول سے کام لیتا ہے تو اس کی وجہ خود آپ بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہم میں علم حاصل کرنے کی خواہش یا عدم دلچسپی ہوگی تو وہ ہمارے بچوں پر شدید اثر انداز ہوتی ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق بچوں میں تعلیم سے رغبت نہ ہونے کی وجہ بہت حد تک جینیاتی بھی ہوسکتی ہے یعنی یہ ہمارے جین میں تحریر ہوتا ہے اور اس کا 40 سے 50 فیصد اثر بچوں کی تدریس پر پڑتا ہے۔ اس تحقیق کے لیے ماہرین نے 6 ممالک کے 13 ہزار جڑواں بچوں کا مطالعہ کیا جن کی عمریں 9 سے 16 برس تک تھیں، مطالعے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ماحول، رہن سہن اور خاندان تو مشترکہ عوامل ہیں لیکن ان میں بہت حد تک جینیات کا عمل دخل بھی ہوتا ہے اور اسی کا پڑھنے لکھنے سے گہرا تعلق دیکھا گیا ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہم بچوں کو اسکول جانے اور پڑھائی کی طرف راغب کرنے میں کمی کردیں بلکہ یہ جانیں کہ خود والدین بھی اپنی اس کم عمر میں اسکول جانے سے جی چراتے رہے تھے اور اسی وجہ سے یہ جین اب ان کی اولاد تک منتقل ہوئے ہیں جب کہ وہ والدین جو اپنے بچپن میں اسکول جانے اور پڑھائی میں دلچسپی لیتے ہیں ان کے بچوں میں بھی یہ رحجان زیادہ پایا جاتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک والدین اکثر اسکول کے ماحول اور اساتذہ کو بچے کی تعلیمی اکتاہٹ کا ذمے دار ٹھہراتے ہیں جو کہ ہمیشہ درست نہیں ہوتا اسی لیے والدین کو چاہئے کہ وہ روزانہ کچھ وقت بچوں کو دیں اور انہیں اپنے ساتھ بٹھا کر پڑھانے کی کوشش کریں تاکہ مؤثر نتائج برآمد ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…