پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

کابل میں گیسٹ ہاؤس پر حملہ کرنے والے چار شدت پسند ہلاک

datetime 27  مئی‬‮  2015 |

کابل (نیوز ڈیسک)افغان حکام کا کہنا ہے کہ کابل کے سفارتی علاقے میں واقع ایک گیسٹ ہاؤس پر حملہ کرنے والے چار شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔شدت پسندوں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب 11 بجے کے قریب شہر کے وسطی علاقے وزیر اکبر خان میں واقع مہمان خانے کو نشانہ بنایا تھا۔حملے کے آغاز میں ہی ایک گھنٹے کے دوران کم سے کم ایک درجن دھماکے سنے گئے تھے۔اس حملے کی اطلاع ملتے ہی افغان سکیورٹی فورسز جائے وقوع پر پہنچ گئی تھیں اور شدت پسندوں کا مقابلہ کیا۔افغان نائب وزیرِ داخلہ ایوب سولنگی کا کہنا ہے کہ یہ مقابلہ بدھ کی صبح تک جاری رہا جس میں چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا۔ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’چار حملہ آور جن کے پاس تین کلاشنکوف اور ایک دستی بم پھینکنے والا لانچر تھا وزیر اکبر خان کے علاقے میں مار دیے گئے۔‘ایوب سولنگی نے بتایا کہ اس کارروائی میں کوئی عام شہری یا سکیورٹی اہلکار ہلاک نہیں ہوا۔افغان طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔کچھ دن پہلے طالبان شدت پسندوں نے کابل میں ایک گیسٹ ہاؤس پر حملہ کیا تھا جس میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں کچھ غیر ملکی بھی شامل تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی،وزیر اکبر خان کے علاقے میں کئی سفارت خانے اور سینیئر سرکاری حکام کی رہائش گاہیں بھی ہیں۔کابل پولیس کے ترجمان عبداللہ کریمی نے خبر رساں ادارے ایف اے پی کو بتایا کہ حملہ آور ہیتل نامی ہوٹل میں داخل ہونے چاہتے تھے تاہم وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔افغانستان کی وزارتِ داخلہ نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے اس گیسٹ ہاؤس کو طالبان نے دسمبر سنہ 2009 میں بھی نشانہ بنایا تھا۔افغانستان کی وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان کے مطابق یہ گیسٹ ہاؤس ’ربانی گیسٹ ہاؤس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔انھوں نے بتایا کہ یہ گیسٹ ہاؤس ربانی خاندان کی ملکیت ہے جس میں افغانستان کے موجودہ وزیرِ خارجہ صلاح الدین ربانی اور سابق صدر برہان الدین ربانی بھی شامل ہیں۔خیال رہے کہ کچھ دن پہلے بھی طالبان شدت پسندوں نے کابل میں ایک گیسٹ ہاؤس پر حملہ کیا تھا جس میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں کچھ غیر ملکی بھی شامل تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…