جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

ایک اور جہاز گر کر تباہ ۔۔۔66افراد زندہ جل گئے

datetime 20  مارچ‬‮  2019 |

تہران(این این آئی)ایران کی نجی فضائی کمپنی آسمان کا مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ ہوگیا جس میں عملے کے چھ افراد سمیت تمام سوار66افرادہلاک ہوگئے ،مسافر طیارہ تہران سے جنوب مغربی شہر یسوج جا رہا تھاکہ موسم کی خرابی کی وجہ سے حادثے کے مقام ہیلی کاپٹر بھی پہنچ نہیں سکااوراصفہان کے قریب گر کر تباہ ہوگیا۔

ایرانی ٹی وی کے مطابق آسمان فضائی کمپنی کے ترجمان محمد طبطبائی نے بتایا کہ طیارے کے حادثے کی وجہ تلاش کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثے کی جگہ تک رسائی نہیں ہوسکی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اتوار کو مسافر طیارہ تہران سے جنوب مغربی شہر یاسوج جارہا تھا کہ اچانک اس کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہوگیا اور صوبہ اصفہان کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا،حادثے کے شکار طیارے میں عملے کے 6 افراد سمیت 60 مسافر سوار تھے جن میں دو سیکیورٹی گارڈ، دو خدمت گزار، ایک پائلٹ اور ایک معاون پائلٹ شامل ہے،ایمرجنسی سروس کے ترجمان نے کہاکہ تمام ہنگامی فورسز کو الرٹ کردیا گیا ہے تاہم خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹروں کو جائے وقوعہ پر جانے میں مشکلات کا سامنا ہے،ایرانی ہنگامی حالت کی تنظیم کے سربراہ نے بتایاکہ مذکورہ طیارہ اندرونی پرواز میں تہران سے یاسوج جا رہا تھا اور اس دوران اصفہان کے قریب علاقے سمیرم میں گرا۔ایرانی فضائی کمپنی آسمان کے ترجمان نے بتایاکہ کہ طیارے کا اڑان بھرنے کے تین گھنٹے بعد رے ڈار سے رابطہ منقطع ہوگیااوربعد میں اطلاع ملی کہ طیارہ سمیرم قصبے کے نزدیک پہاڑی علاقے میں گراہے۔

مذکورہ فضائی کمپنی کے سینئر ڈائریکٹر نے بتایاکہ طیارے نے اتوار کی صبح مقامی وقت کے مطابق 5 بجے تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے سے اڑان بھری اور صبح 8 بجے ریڈار کی اسکرین سے غائب ہو گیا۔ایران کی ایک غیر سرکاری تنظیم ایرانین ریڈ کریسنٹ نے کہاکہ ان کے ورکرز حادثے کے وقت اس علاقے میں اپنے کام میں مصروف تھے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جب طیارے کو حادثہ پیش آیا اس وقت علاقے میں شدید دھند چھائی ہوئی تھی۔ ایرانی حکام نے آسمان ایئرلائن کے طیارے کے حادثے کی وجہ تلاش کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

موضوعات:



کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…