ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

ایک کروڑ روپے تک کے ریفنڈز فوری ادا کیے جائیں : لاہور چیمبر

datetime 19  مارچ‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر، سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر زور دیا ہے کہ وہ پہلے مرحلے میں صنعت و تجارت کے ایک کروڑ روپے تک کے ریفنڈز فوری طور پر ادا کریں کیونکہ صنعتکاروں و تاجروں کو سرمائے کی قلت کا سامنا ہے۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ

انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ریفنڈز اربوں روپے تک پہنچ چکے ہیں، ان کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں جبکہ سرمائے کی قلت کا نتیجہ صنعتی یونٹس کی بندش اور ورکرز کی بے روزگاری کی صورت میں برآمد ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر کاروباری افراد نے بینکوں سے قرضے لے رکھے ہیں جن کی فنانشل کاسٹ وہ بروقت بینکوں کو ادا کررہے ہیں مگر اْن کا سرمایہ سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریفنڈز کی صورت میں پھنسا ہوا ہے جس سے ان کی پیداواری لاگت میں بھاری اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریفنڈ کا عمل بہت مشکل اور طویل ہے، بعض اوقات تو کاروباری لوگوں کو اپنی ہی رقم واپس لینے میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔انہوں نے پیپراورپیکیجنگ کے شعبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بجلی، گیس ، پٹرول اور کاغذکی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے اس شعبہ کی پیداواری لاگت پندرہ سے بیس فیصد اضافہ ہوگیا ہے جبکہ ریفنڈز میں تاخیر مزید مسائل پیدا کررہی ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے کہا کہ کاروباری شعبہ پہلے ہی بہت سے مسائل کی وجہ سے پریشان ہے جبکہ بھاری سرمایہ پھنس جانے سے اْن کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری ملک کی معاشی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرنا اور معاملات کی بہتری میں حکومت کا ہاتھ بٹانا چاہتی ہے مگر پہلے ضروری ہے کہ اس کی مشکلات ختم کی جائیں اور سہولیات مہیا کی جائیں۔ سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر جیسے مسائل کی موجودگی میں کاروباری برادری اپنا کردار ادا نہیں کرسکتی۔ انہوں نے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور جلد سے جلد ایکسپورٹرز اور مینوفیکچررز کے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریفنڈز جاری کرنے کے احکامات صادر کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…