منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ابھی نندن لوگوں میں گرا تو خوب مار پڑی، لیکن میں صحرا میں گرا تھا، گا ؤں والوں نے پکڑلیااور پھر۔۔! سابق بھارتی پائلٹ جے ایل بھرگا کے انکشافات

datetime 11  مارچ‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن )پاک بھارت1971 کی جنگ کے گرفتار بھارتی پائلٹ آج بھی پاک فوج کے حسن سلوک، لوگوں کی مہمان نوازی کے گیت گانے پر مجبور ہے،پائلٹ نے اپنی بزدلی، خوف اور مکاریوں کو بھی بیان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے متعدد بار بھاگنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، ابھینندن کو تولوگوں نے خوب مارا، لیکن میں صحرا میں گراتھا، گاں نے پکڑلیا، لیکن مہمان نوازی کی اور رینجرز کے حوالے کردیا،

پاکستانی فوج کا کیپٹن بڑا اچھا آفیسر تھا، چائے پلائی اور کہا کہ اب آپ محفوظ ہاتھوں میں ہو۔سابق بھارتی ایئرکموڈور جے ایل بھرگا نے بھارتی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاک بھارت کے درمیان 1971 کی جنگ میں ایک واقعہ پیش آیا، جنگ میں بھارت کا لڑاکا طیارہ تباہ ہوگیا تھا، جبکہ پائلٹ ایجیکٹ ہوکر پاکستان کی سرزمین پر گر گیا تھا۔جس پر پاکستانی فورسز نے ان کو گرفتار کرلیا تھا۔ سابق بھارتی ایئرکموڈور جے ایل بھرگاونے بتایا کہ پاک بھارت 1971 کی جنگ 3دسمبر کو شروع ہوئی تھی اور مجھے 5دسمبر کو جنگ میں بھیجا گیا تھا۔مجھے حیدرآباد سندھ میں ٹارگٹ دیا گیا تھا، اس دوران طیارے کو زمین سے ہوائی فائر لگ گیا،میں واپس آرہا انڈیا کی طرف، حملہ کرنا توممکن نہیں تھا لیکن میرے طیارے کاپہلے ایک انجن فیل ہوا پھر دوسرا بھی فیل ہوگیا، میرے پاس ایجیکٹ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ابھینندن تو لوگوں کے گھیرے میں آگئے تھے، جس پر لوگوں نے اس کو خوب پٹائی کی۔میرے ساتھ ایسا کوئی واقعہ نہیں تھا۔جہاں میں اتراوہاں صحرا ہی تھا، وہاں میرے پاس کوئی آدمی نہیں تھا۔میں نے اپنا یونیفارم اتار کرسول کپڑے پہن لیے، میں نے بھارتی سرحد کی جانب بھاگنے لگ گیا، لیکن مسلسل دوتین گھنٹے بھاگ بھاگ کر میرا پانی ختم ہوا، وہاں صحرا میں سانپ بھی بہت زیادہ تھے۔ڈر سے میرا حلق خشک ہوگیا تھا، مجھے ایک گاں نظر آیا۔گاں کے کچھ لوگ مجھے پکڑ کر لے گئے، انہو ں نے وہاں رینجرز کو بلاکر مجھے پکڑوا دیا۔

میں 2بار وہاں سے بھاگنے کی کوشش بھی کی لیکن ناکام رہا۔رینجرز والے مجھے اونٹوں پر بٹھا کر میلوں دور سفر کروا کے آرمی کے پاس لے گئے۔ پاکستانی فوج کا کیپٹن بڑا عمدہ انسان تھا، اس نے مجھے چائے پلائی اور کہا کہ اب آپ محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ میں پانچ دسمبر سے چلا اور نو دسمبر کو مجھے آرمی کے حوالے کیا گیا۔ وہ مجھے کراچی لے گئے، کراچی میں ہمارے اور بھی 2 پائلٹ پکڑے ہوئے تھے۔وہاں سے ہمیں راولپنڈی منتقل کردیا گیا۔وہاں سے ہم نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ تاہم دسمبر1972 میں ہمیں چھ سو جوانوں ،پائلٹس اور افسران کورہا کرکے بھارت کے حوالے کردیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…