اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

تجارتی مفادات کا ٹکراؤ،امریکہ اور بھارت میں بھی ٹھن گئی،امریکا کابھارت کیلئے ترجیحی تجارتی درجہ ختم کرنے سمیت دھماکہ خیز اقدامات کااعلان 

datetime 5  مارچ‬‮  2019 |

واشنگٹن /نئی دہلی(این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر منصفانہ طور پر امریکی کاروباروں کو بند کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بھارت کے لیے ترجیحی تجارتی درجے کو ختم کرنے کے منصوبے کا اعلان کردیاہے ۔دوسری جانب بھارت کے سیکریٹری تجارت انوپ ودھاون نے کہاہے کہ جی ایس پی کا درجہ واپس لینے سے بھارت کی امریکا کو برآمدات پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی کانگریس کو لکھے گئے خط میں بھارت سے جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز (جی ایس پی) واپس لینے کے ارادے کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ یہ پروگرام ترقی پذیر ممالک کی امریکی منڈیوں تک ا?سان رسائی فراہم کرتا ہے۔جی ایس پی 121 ترقی پذیر ممالک کے لیے امریکا کی برآمدات پر کم ڈیوٹیز کا درجہ دیتا ہے جبکہ بھارت 2017 میں پروگرام کا سب سے بڑا بینیفشری تھا۔امریکی صدر نے اپنے خط میں لکھا کہ بھارتی حکومت ننے امریکا کو اس بات کی یقین دہانی نہیں کروائی کہ وہ اسے بھارت کی منڈیوں میں برابر اور معقول رسائی فراہم کرے گا۔امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر سے جاری بیان میں بتایاگیا کہ کانگریس کو لکھے گئے خط کی 60 روز کی میعاد شروع ہونے سے قبل ٹرمپ کارروائی کرسکتے ہیں۔دوسری جانب بھارت کے سیکریٹری تجارت انوپ ودھاون کا کہنا تھا کہ جی ایس پی کا درجہ واپس لینے سے بھارت کی امریکا کو برآمدات پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔سیکریٹری تجارت کا کہنا تھا کہ جی ایس پی کے تحت بھارت 5 ارب 60 کروڑ ڈالر مالیت کا سامان برآمد کرتا ہے اور اس پر سالانہ صرف 19 کروڑ ڈالر کا ڈیوٹی کا فائدہ ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق جی ایس پی کے تحت کیمیکل، انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں سے کم از کم 19سو بھارتی مصنوعات کو امریکی منڈیوں میں ڈیوٹی فری رسائی ہوتی ہے۔واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا

جب بھارت کے عام انتخابات صرف 2 ہفتے کی دوری پر ہیں، جہاں نریندر مودی دوبارہ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اس سے قبل امریکی صدر کی جانب سے امریکی مصنوعات پر بھارتی ڈیوٹی کے خلاف بھی بات کی گئی تھی۔گزشتہ ماہ امریکی سیکریٹری تجارت ولبر روز نے بھی اپنے بھارتی دورے کو بھی منسوخ کردیا تھا، تاہم نیوز رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ولبر روز نے اپنے دورے کو خراب موسم کی وجہ سے منسوخ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…