دبئی (این این آئی)جنگی جنون میں مبتلا بھارت کی جانب سے پاکستان کو دنیائے کرکٹ میں تنہا کرنے کی کوشش بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے کہا ہے کہ یہ دہشت گردی کا معاملہ اٹھانے کا مناسب فورم نہیں ہے۔بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا(بی سی سی آئی) نے پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی سی سی میں تجویز پیش کی تھی کہ وہ دیگر ممالک پر زور دے کہ وہ پاکستان سے اپنے
تعلقات ختم کرنے پر غور کریں۔آئی سی سی کے چیئرمین ششانک منوہر نے آئی سی سی کے سہ ماہی اجلاس کے آخر میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا کہ کھیل کی عالمی گورننگ باڈی کیلئے اس تجویز پر عمل کرنا ناممکن ہو گا۔رپورٹ کے مطابق بی سی سی آئی کے قائم مقام سیکریٹری امیتابھ چوہدری اور آئی سی سی میں بھارتی بورڈ کے نمائندوں نے یہ خط اجلاس میں پیش نہیں کیا لیکن ششانک منوہر نے خود ہی یہ معاملہ اٹھا کر آگاہ کیا کہ آئی سی سی کا بنیادی کام کرکٹ سے متعلق امور کو دیکھنا ہے۔یہ خط 22 فروری کو بی سی سی آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر راہْل جوہری کی جانب سے ششانک منوہر، آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیوڈ رچرڈسن اور انگلش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کولن گریوز کو لکھا گیا تھا۔آئی سی سی یہ خط ارسال کیے جانے سے قبل بھارتی بورڈ کی ایڈمنسٹریٹرز کی کمیٹی نے اس کا جائزہ لیا تھا جہاں ابتدائی مراسلے میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ پاکستان کی ورلڈ کپ میں شرکت پر پابندی عائد کی جائے۔پاکستان کی جانب سے اس خط پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تاہم رپورٹس کے مطابق اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا جہاں اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی گزشتہ دو روز سے چیئرمین احسان مانی کر رہے تھے البتہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی اور حالیہ تناؤ کو دیکھتے ہوئے احسان مانی نے کہا کہ وہ بھارت میں شیڈول 2021 ورلڈ ٹی20 اور 2023 ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی کھلاڑیوں ویزا کے اجرا کے حوالے سے وضاحت چاہتے ہیں۔احسان مانی نے ششانک منوہر کو باقاعدہ خط لکھ کر
اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ویزا کے حوالے سے وضاحت طلب کی تھی۔اس کے جواب میں ششانک منوہر نے کہا تھا کہ ٹورنامنٹ کے میزبان ہونے کے ناطے یہ بھارت کی ذمے داری ہے کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں اور آفیشلز کو ویزا جاری کرے اور عموماً اس طرح کے مسائل ایونٹ کے آغاز سے ایک سال قبل پورا کیا جاتا ہے۔پاکستان اور بھارت رواں سال انگلینڈ میں شیڈول ورلڈ کپ میں 16جون کو مانچسٹر میں مدمقابل ہوں گے اور آئی سی سی چیف ایگزیکٹو اجلاس کے دوران
راہل جوہری نے آئی سی سی اور انگلش کرکٹ بورڈ سے ورلڈ کپ میں شرکت کیلئے آنے والے بھارتی کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کی کی سیکیورٹی کی ضمانت مانگی۔ڈیوڈ رچرڈسن نے اجلاس کے اختتامی لمحات پر گفتگو میں کہاکہ ہمارے لیے ورلڈ کپ کیلئے آنے والے تمام ملکوں کے شائقین اور کھلاڑیوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز اہمیت کے حامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی سی سی اور انگلش کرکٹ بورڈ نے شراکت داری کرتے ہوئے ورلڈ کپ کیلئے ایک بہترین سیکیورٹی پلان مرتب کیا ہے اور کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کی حفاظت ہماری پہلی ترجیح ہے۔



















































