منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

مہمند ڈیم منصوبے کے تعمیری ٹھیکے کی نیلامی میں تنازع نظر انداز،8سو میگا واٹ توانائی منصوبے واپڈا نے بڑے فیصلے کی منظوری دے دی 

datetime 23  فروری‬‮  2019 |

لاہور (آن لائن) 8 سو میگا واٹ توانائی کے مہمند ڈیم منصوبے کے تعمیری ٹھیکے کی نیلامی میں تنازع کے باوجود واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی( واپڈا) نے چینی کمپنی سی جی جی سی اور ڈیسکون انجینئرنگ کے اشتراک (جوائنٹ وینچر) کو منصوبے کے تعمیر کی منظوری دے دی۔ واپڈا نے منصوبے کے حکام کو قواعد کے مطابق منظوری کا مسودہ بھی جاری کرنے کی ہدایت کردی،

جس میں معاہدے پر دستخط ہونے کے اگلے ماہ سے ہی ٹھیکیدار سے کام کے آغاز کے لیے کہا جائے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے کہا کہ اتنے بڑے ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے پچھلے 50 سالوں میں کوئی کانٹریکٹ نہیں دیا گیا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ بالآخر اس کی تعمیر کا ٹھیکہ سی جی جی سی اور ڈیسکون کے اشتراک کو دے دیا گیا۔انہوں نے دعوی کیا کہ دونوں کمپنیوں کے اشتراک (جے وی) سے منصوبے کی لاگت کم کرنے کا کہا گیا تھا جس پر انہوں نے مجموعی لاگت سے 18 ارب روپے کم کردیئے ہیں۔واپڈا کے مطابق جے وی کی جانب سے منصوبے کے سولِ، الیکٹرکل اور مکینکل کاموں کے لیے 201 ارب روپے کی بولی دی گئی تھی تاہم گفتگو شنید کے بعد انہوں نے اس لاگت میں 18 ارب روپے کی کمی کر کے اسے 183 ارب روپے تک کردیا۔چیئرمین واپڈا کے مطابق زمین کے مالکان زمین دینے کے لیے تیار ہوگئے ہیں جس کے بعد اب منصوبے پر کسی وقت بھی کام شروع کیا جاسکتا ہے۔واپڈا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق مذکورہ ٹھیکہ واپڈا ہاس میں ایک اجلاس کے دوران دیا گیا، جس میں تکنیکی اور دیگر پہلوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تمام تر تفصیلات کے حوالے سے بات چیت کی گئی تھی۔خیال رہے کے منصوبے کے پی سی-1 کی رو سے اس کی تعمیر 5 سال 8 ماہ میں مکمل ہونی ہے تاہم واپڈا نے درخواست کی ہے کہ اسے 5 سال سے کم مدت میں مکمل کرلیا جائے۔چیئرمین واپڈا کا کہنا تھا کہ آپریشن اور منصوبے کی دیکھ بھال و مرمت صرف واپڈا کی ذمہ داری ہوگی اور ہم او اینڈ ایم ورک کسی کو نہیں دیں گے کیوں کہ یہ قومی ملکیت ہے چنانچہ واپڈا خود اس کی ذمہ داری اٹھائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…