منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

اہم سرکاری ادارے میں منظور نظر افرادکی بھرتی کیلئے منصوبہ تیار ،میرٹ کی دھجیاں اڑا دی گئیں

datetime 22  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد ( آن لائن )وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال پمز کی انتظامیہ نے خالی آسامیوں پر منظور نظر افرادکی بھرتی کیلئے منصوبہ بندی تیار کرلی گئی ہے ۔ذ رائع کے مطابق اس مقصد کے لئے وفاقی وزیر صحت کو بھی راضی کیا جائے گا ۔372خالی آسامیوں پر اوٹی ایس کے ذریعے لئے گئے امتحانات میں میرٹ پر آنے والوں کے مقررہ وقت پر انٹرویوز نہ کر کے میرٹ کی دھجیاں اڑا ددی گئیں ۔

تفصیلات کے مطابق پمز ہسپتال میں 372 خالی اسامیوں پر بھرتی کیلئے ہسپتال انتظامیہ نے 30 اگست 2018 کو قومی اخبارات میں اشتہارات دیئے جس پر گریڈ 6 سے گریڈ 15 تک کی بھرتیوں کیلئے ماہ اکتوبر میں OTS کے ذریعے امتحان منعقد ہوا ماہ دسمبر میں رزلٹ آؤٹ کردیا گیا ذرائع کے مطابق اوٹی ایس کا رزلٹ آؤٹ ہونے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی ہدایات کی روشنی میں ان اسامیوں پر انٹر ویو لیکر 16فروری سے قبل کامیاب امیدواروں کی میرٹ پر تعیناتی ضروری تھی مگر پمز انتظامیہ نے اپنی مرضی کے افراد بھرتی کرنے کیلئے دو ماہ کا عرصہ ٹال مٹول کرتے ہوئے گزار دیا ذرائع کے مطابق ٹال مٹول کی پالیسی میں وفاقی وزیر صحت کی مرضی بھی شامل تھی تاکہ اپنے منظور نظر افراد کو بھرتی کرایا جاسکے ہسپتال انتظامیہ کی اقرباء پروری اور نااہلی کی وجہ سے جہاں ایک طرف حکومتی خزانے سے لاکھوں روپے کا ضیاع ہوا ہے وہی میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کے ذرائع نے روزنامہ جناح کو بتایاکہ قوانین کے مطابق ان خالی اسامیوں پر بھرتی کے لئے نئے سرے سے اشتہارات جاری کئے جانے چاہئیں ذرائع کے مطابق گریڈ ایک سے 5تک کی بھرتی کیلئے ایگزیکٹو ڈائر یکٹر پمز نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے منظور نظر افراد کو اپوائنٹمنٹ لیٹر جاری کئے ہیں بھرتیوں کے ان معاملات پر جب ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تمام معاملات سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جب بھی کوئی بھرتی کی تو میرٹ کو ملحوظ خاطر رکھ کر کی ہے البتہ جو آسامیاں لیٹ ہوئیں ان میں ہسپتال انتظامیہ کا کوئی رول نہیں وفاقی حکومت کی وجہ سے ردوبدل ہوا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…