منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کے تنقیدی بیان پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکاردعمل بھی سامنے آگیا

datetime 22  فروری‬‮  2019 |

لاہور (ا ین این آئی) سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ احسن اقبال کے بیان پر قوم کی جو رائے ہے وہی میرا ردعمل ہے، پاکستان میں پانی کا کیا مستقبل ہے، 25کو آنے والی رپورٹ میں واضح ہو جائے گا،پاکستان پانی کے مسئلے سے متاثر ہو رہا ہے ، کالا باغ ڈیم بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ،بھارتی چینلز پرپانی روکنے کے بیانات صرف سیاسی یا بڑک کے علاوہ کچھ نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے الحمراء میں لاہور لٹریری فیسٹیول میں پانی کے موضوع پر ہونے والے سیشن اور بعد ازاں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہمیں پانی کو بچانا اور ڈیم بنانا ہے ،پانی بچانے کیلئے جذبے سے کام کرنا ہے اور لوگوں کو پانی بچانے کیلئے آگاہی دینا ہے۔ہمارے ہاں پراجیکٹ بنتے رہتے ہیں مگر عملدرآمد نہیں ہوتا ،ڈیم بنانے بے حد ضروری ہے ، کچھ وقت لگے گا ،عوام نے بہت مدد کی اور اپنی کمایاں ڈیم فنڈز میں دیں ،پوری قوم کو دیامیر اور مہمند ڈیم کے لئے ایک ہونا ہے،وعدہ کیا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ڈیم کا پہرہ دوں گا اور میری زندگی ڈیم کے لئے وقف ہے۔انسان کے لئے صاف پانی اور بہتر صحت بہت ضروری ہے مگر ہمارے ہاں پانی کا مسئلہ بہت اہم ہے اور پاکستان اس سے متاثر ہو رہا ہے، پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جس میں پانی کا مسئلہ بہت بڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں پانی ٹینکرز کی مدد سے مہنگے داموں ملتا ہے، کوئٹہ میں پانی کی سطح دو ہزار فٹ تک جا پہنچی ہے، کالا باغ ڈیم کو فوری بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ثاقب نثارنے کہا کہ کوالٹی لائف گزارنا ہمارا حق ہے اور چاروں صوبوں کا ڈیم بنانے کیلئے ایک ہونا ضروری ہے۔ایک سوال کے جواب میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ک احسن اقبال کے بیان پر قوم کی جو رائے ہے وہی میرا ردعمل ہے، سپریم کورٹ میں ڈیم سے متعلق رپورٹ 25 کو پیش کی جائے گی، پاکستان میں پانی کا کیا مستقبل ہے، 25 کو آنے والی رپورٹ میں واضح ہو جائے گا،رپورٹ میں ڈیم اور پانی کی موجودگی کی صورت حال سے متعلق واضح ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پانی کے ساتھ زندگی جڑی ہوئی ہے، اس کے بغیر بقا ممکن نہیں۔سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ بھارتی چینلز پرپانی روکنے کے بیانات صرف سیاسی یا بڑک کے علاوہ کچھ نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…