بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سوشل میڈیا آپ سے پرسکون نیند چھین رہا ہے : ماہرین

datetime 17  فروری‬‮  2019 |

کینیڈا(مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا کے مضمر اثرات پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ اگر دن کےچوبیس گھنٹوں میں سے 60 منٹ بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹس یا موبائل ایپلیکشنز استعمال کی جائیں تو اس سے رات کی نیند پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال کینیڈا کے ایسٹرن اونٹارویو ریسرچ انسٹیوٹ میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ۔

اگر کوئی شخص میٹھی اور پرسکون نیند لینا چاہتا ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ موبائل ایپلیکشنز اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس کا استعمال ترک کردے یا پھر انہیں انتہائی کم حد تک محدود کردے۔ ماہرین کے مطابق جو لوگ دن میں ایک گھنٹہ ہی فیس بک، واٹس ایپ یا پھر کوئی اور سوشل میڈیا نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں اُن کی نیند دیگر کے مقابلے میں کم ہوجاتی ہے، اور جو ہوتی ہے اس میں بھی وہ پرسکون نیند نہیں سو پاتے۔ تحقیق کے دوران 5 ہزار سے زائد خواتین اور مردوں سے انٹرویو کیا گیا جس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ خصوصاً رات کے وقت سوشل میڈیا استعمال کرنے والے لوگوں کی نیند 7 گھنٹے سے کم رہ جاتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ’لڑکیوں کی بڑی تعداد خطرناک حد تک سوشل میڈیا کی جانب راغب ہورہی ہے جس کے باعث اُن کی نیند پوری نہیں ہوتی اور پھر شادی کے بعد انہیں بہت سی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ لڑکوں کی بھی بڑی تعداد سماجی رابطے کی ویب سائٹس استعمال کررہی ہے جس کے باعث اُن کی صحت پر برے نتائج مرتب ہورہے ہیں۔ تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ کا ماننا ہے کہ مطالعے کے نتائج موجودہ وقت میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے صارفین کی تعداد میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ ڈاکٹررابرٹ کہتے ہیں کہ کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نوجوان اور بچے بڑھتی عمر کے ساتھ بری عادات میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اُن کے لیے اس سے جان چھڑانا ناممکن ہوجاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…