منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

حکومت منافقت نہ کرے،عدالتی احکامات پر عمل نہیں کرنا تو بتا دے‘سپریم کورٹ نے کھری کھری سنا دیں

datetime 14  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ حکومتوں نے معذور افراد کے حقوق سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل نہیں کرنا تو بتادیں لیکن منافقت نہ کریں۔جمعرات کو جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے معذور افراد کے حقوق سے متعلق کیس کی ،سماعت کی تو چاروں صوبوں کے سیکرٹریز عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے معذور افراد کے حوالے سے وفاق اور صوبوں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ وفاق اور صوبوں نے عدالتی احکامات پر کتنا عمل کیا؟۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اگر عمل نہیں کرنا تو بتا دیں منافقت نہ کی جائے۔عدالت نے قرار دیا کہ معذور افراد کے حقوق کے حوالے سے وفاق اور صوبے قوانین پر عمل نہیں کر رہے، ان قوانین پر عمل کریں عدالت کو ایکشن لینے پر مجبور نہ کریں۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس حوالے سے قوانین اور عالمی معاہدے ہیں جن پر عمل ہونا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بیان حلفی کے بعد عدالتی احکامات پر عمل کریں ورنہ توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاق اور تمام صوبوں نے ضلعی سطح پر کمیٹیاں قائم کر دی ہیں۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کمیٹیاں اگر فعال ہیں تو کتنی شکایات موصول ہوئیں کیا ازالہ ہوا، اس حوالے سے آپ کو یاد نہیں ہوگا کیونکہ یہ سب کاغذی کارروائی ہے، آپ سب ایک ہی جیسے ہیں عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ معذور افراد کے حقوق سے متعلق کام ہورہا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے اسلام آباد میں کتنی شکایات موصول ہوئیں؟۔ اس کے جواب میں اسلام آباد انتظامیہ کے نمائندہ نے بتایا کہ تاحال کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ کیا یہاں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ وفاق اور صوبے معذور افراد کی بحالی، ان کی شکایات اور سہولیات سے متعلق ڈیٹا فراہم کریں، انہیں دیے گئے وظیفہ، طبی امداد اور دیگر سہولیات سے متعلق بھی آگاہ کیا جائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 12 مارچ تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…