جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

فری وائی فائی کے جھانسے میں مت آئیں

datetime 14  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) گھر سے دور کسی اجنبی جگہ پر اپنے پیاروں سے رابطے کا آسان ذریعہ اسمارٹ فون ہی ہوتا ہے جس میں مختلف میسجنگ ایپس کے ذریعے آپ ان سے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ ایسے میں فری وائی فائی آپ کے رابطوں کو مزید آسان بنا سکتا ہے، لیکن ایک منٹ۔ کیا آپ جانتے ہیں پبلک وائی فائی ہیکرز کا بچھایا ہوا ایک جال بھی ہوسکتا ہے؟ پبلک وائی فائی سے

کنیکٹ ہونے کا مطلب ہے اپنی تمام معلومات ہیکرز کے ہاتھ میں دے دینا۔ آئیں دیکھتے ہیں ہیکرز کس طرح آپ کا ڈیٹا چوری کرسکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وائی فائی کا کوئی بھی نام رکھا جاسکتا ہے اور ضروری نہیں اصل دکھنے والا وائی فائی اصل ہی ہو۔ مثال کے طور پر اگر آپ کراچی کے جناح انٹرنیشل ایئرپورٹ پر بیٹھے ہوں، اور آپ کو اسمارٹ فون میں ’جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ‘ کے نام سے وائی فائی دکھائی دے، تو ضروری نہیں کہ وہ ایئرپورٹ کا آفیشل وائی فائی ہو۔ ہوسکتا ہے وہ ہیکرز کا بنایا گیا وائی فائی ہو۔ اب آپ جیسے ہی اس وائی فائی سے کنیکٹ ہوں گے آپ کے اسمارٹ فون پر ہونے والی تمام سرگرمیاں ہیکر کو دکھائی دیں گی۔ آپ چاہے اپنے موبائل پر کوئی چیٹ کریں، ای میل بھیجیں، کوئی ڈاکیو منٹ پڑھیں، وہ سب ہیکرز کے پاس جارہا ہوگا۔ ایک اور طریقہ فری وائی فائی ایپس بھی ہوتی ہیں۔ ان کو انسٹال کرنے کا مطلب اپنے آپ کو سیکیورٹی رسک میں ڈالنا ہے۔ ہیک ہوجانے کے بعد ہیکرز آپ کی لاعلمی میں آپ کے موبائل میں کیمرہ اور وائس ریکارڈنگ کھول سکتے ہیں جس کے بعد آپ کی بالمشافہ ملاقاتوں کی تفصیل بھی ہیکرز کے پاس جاسکتی ہے۔ ایسی صورت میں آپ چاہے کوئی خفیہ ملاقات کریں لیکن وہ آپ کے اپنے ہی موبائل میں ریکارڈ ہوتی رہے گی اور تمام معلومات ہیکرز کے پاس جاتی رہیں گی۔ گویا فری وائی فائی آپ کے اسمارٹ فون کا تمام کنٹرول ہیکر کے ہاتھ میں دے سکتا ہے۔ اس سے کیسے بچا جائے؟ فری وائی فائی کے ممکنہ نقصان سے بچنے کا سب سے آسان طریقہ تو اس وائی فائی کو استعمال نہ کرنا ہے تاہم یہ زیادہ قانل عمل نہیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پبلک وائی فائی استعمال کرتے ہوئے اسمارٹ فون میں کسی بھی قسم کے پاسورڈز نہ ڈالیں۔ اپنے اسمارٹ فون، ٹیبلیٹس، اور لیپ ٹاپ وغیرہ میں سیکیورٹی سلوشن انسٹال کریں جو آپ کو ہیکرز سے کسی حد تک تحفظ دے سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…