ہفتہ‬‮ ، 05 ستمبر‬‮ 2026 

شادی کے بارے میں لطیفہ سنانا سشمیتا سین کو مہنگا پڑگیا

datetime 1  فروری‬‮  2019 |

ممبئی(این این آئی) شادی کے متعلق درجنوں کیا سینکڑوں لطیفے مشہور ہیں اور لوگ ان میں نت نیا اضافہ کرتے رہتے ہیں اور لوگ ان سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں لیکن بالی ووڈ اداکارہ سشمیتا سین کو شادی کے بارے میں لطیفہ سنانا مہنگا پڑ گیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سشمیتا سین، جو تمام عمر شادی سے دور بھاگنے کے بعد بالآخر خود سے کئی سال چھوٹے ماڈل روہمن شاول کی محبت میں گرفتار ہیں اور دونوں جلد شادی کرنے والے ہیں۔ اسی حوالے سے گزشتہ دنوں سشمیتا سین نے اپنے انسٹاگرام پر شادی کے متعلق ایک

لطیفہ سنایا جس کا مقصد شادی روہمن سے اپنی محبت کا اظہار کرنا تھا۔سشمیتاسین نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’’جس شخص نے بھی شادی ایجاد کی وہ کوئی بہت نامعقول انسان تھا۔ میں ’تم‘ سے محبت کرتی ہوں اور اس معاملے میں حکومت کو بھی ملوث کرنے جا رہی ہوں تاکہ تم مجھے چھوڑ کر نہ جا سکو۔‘‘سشمیتا سین نے تو ازراہِ مذاق یہ بات کہی لیکن انٹرنیٹ صارفین نے اسے سنجیدہ لے لیا اور اداکارہ کو کھری کھری سنانی شروع کر دیں۔ دیپالی داس نامی لڑکی نے کمنٹس میں لکھا کہ ’’شادی ذاتی پسند و ناپسند کا معاملہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…