پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

زرداری منی لانڈرنگ کیس میں ‘یو اے ای کے ملزم کو پاکستان میں کیاکام کرنے کی اجازت دیدی گئی؟حیران کن انکشاف

datetime 29  جنوری‬‮  2019 |

کراچی( وائس آف ایشیا ) وفاقی حکومت نے منی لانڈرنگ کیس میں نامزد عرب ملک سے تعلق رکھنے والے ملزم کو بین الاقوامی سطح پر نایاب قرار دیے گئے پرندے تلور کے شکار کی خصوصی اجازت دے دی۔ذرائع کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے)کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے باشندے ناصر عبداللہ پر سندھ میں مبینہ طور پر منی لانڈرنگ اسکیم میں ملوث ہونے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

سپریم کورٹ کے احکامات پر منی لانڈرنگ کیس میں تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)نے ناصر عبداللہ کا نام پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے ہمراہ اس اسکینڈل میں شامل کیا تھا۔ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے شکار کے اجازت نامے میں کہا گیا کہ حکومت نے اپنی تجویز صوبے کے متعلقہ حکام کو ارصال کردی ہے کہ ٹھٹہ ضلع (بشمول شاہ بندر تحصیل اور جنگ شاہی)کو 19-2018 کے سیزن میں تلور کے شکار کے لیے ناصر عبداللہ کو فراہم کی جائے۔وزارت کے ڈپٹی چیف آف پروٹوکول کی جانب سے جاری ہونے والے خط کو اسلام آباد میں متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے کو ارسال کیا گیا تاکہ اسے ناصر عبداللہ تک پہنچایا جاسکے۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت خلیجی ممالک کے حکمرانوں، بادشاہوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے تلور کے شکار کی خصوصی اجازت جاری کرتی رہی ہے۔تاہم اس مرتبہ یہ اجازت نامہ ایسے شخص کو دیا گیا جس کے خلاف تحقیقاتی اداروں کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ناصر عبداللہ سمٹ بینک کے سربراہ تھے جو تحقیقاتی اداروں کے مطابق میگا منی لانڈرنگ اسکیم کا مرکز تھا۔

واضح رہے کہ سمٹ بینک سے تعلق رکھنے سابق اعلی بینکر حسین لوائی پہلے ہی جیل میں ہیں۔ذرائع کے مطابق ناصر عبداللہ شکار کے سیزن کے شروعات میں ہی متعلقہ مقام پر پہنچ جاتے ہیں تاہم اس مرتبہ وہ ابھی تک نہیں آئے تاہم ان کے مہمان شکار کے لیے پہنچ چکے ہیں۔وائلڈ لائف کے تحفظ پر مامور جاوید مہر نے اس معاملے پر رائے دینے سے گریز کیا تاہم محکمے کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ناصر عبداللہ نے وائلڈ لائف قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی اور اس لیے وہ ہماری مطلوب افراد کی فہرست میں شامل نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ ہمارے قوانین کی خلاف ورزی کرتے تو متعلقہ محکمہ اور ایجنسیاں ان کے خلاف کارروائی کرتیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…