منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

نیویارک ٹائمز کے انکشافات جاری، کمپنی روزانہ ایک لاکھ ڈالر کماتی تھی، سابق ملازم

datetime 23  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اپنی خبر پر قائم ہے ، ڈیکلن والش کے انکشافات کا سلسلہ جاری ہے ، نیویارک ٹائمز کے مطابق ایگزیکٹ کے سکول اور یونیورسٹیوں کے نمبر بند ہیں ، سابق ملازم نے کہا ہے کہ ہاروے اور نکسن یونیورسٹی کی ڈگریاں فروخت کرنے کا ٹاسک ملا تھا ، کمپنی ایک دن میں ایک لاکھ ڈالر تک کما کر دیتی تھی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ایگزیکٹ کمپنی کی جعلی ڈگریوں کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد کمپنی کی آن لائن یونیورسٹیاں اور ہائی سکول خاموش ہیں۔ امریکی اخبار نے ایگزیکٹ کی ایک سو گیارہ ویب سائٹس کو کالز اور پیغامات بھیجے لیکن ایک بھی سیل ایجنٹ سے رابطہ ممکن نہ ہو سکا ، نیویارک ٹائمز کے مطابق ایگزیکٹ کا مرکزی دفتر دبئی میں ہے تاہم خلیجی اخبارات میں رپورٹ شائع ہونے کے بعد دبئی سرگرمیاں محدود کر دی گئیں۔ اخبار کے مطابق ایگزیکٹ کے امریکا میں رابطوں کے بھی شواہد ملے ہیں۔ کیلی فورنیا کولوراڈو اور ٹیکساس میں میل باکس جبکہ فلوریڈا کے بینک میں کمپنی کے دو اکاو¿نٹس بھی ہیں۔ سابق ملازمین کے مطابق ایگزیکٹ نے مالیاتی امور نمٹانے کے لیے 20 کمپنیاں بنا رکھی تھیں۔ ایک کمپنی قبرص میں رجسٹرڈ کنیکٹ شفٹ تھی جس کے کاغذات میں مالک کا نام شعیب شیخ درج ہے۔ نیویارک ٹائمز نے کمپنی کے سابق ملازم بائیس سالہ سکندر ریاض سے گفتگو کی۔ کمیونی کیشن کے طالبعلم اس نوجوان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ایگزیکٹ کے آفس میں جاب کے دوران اسے ہاروے اور نکسن یونیورسٹیوں کی ڈگریاں فروخت کرنے کا ٹاسک ملا ، کسٹمر کو دس سے پندرہ دنوں میں ڈگری کی فراہمی میں 10 سے 15 دن ڈیڈ لائن ہوتی تھی۔ ایک اور ملازم احمد کے مطابق ایگزیکٹ میں جاب کے دوران انہوں نے جو بھی لوگوں کے ساتھ کیا ،

مزید پڑھیے:مسلمان اقلیت ہیں کرایہ دار نہیں

شرمندہ ہیں۔ تین سال کی نوکری کے دوران انہوں نے Belford ،Lorenz اور Adison کی ڈگریاں بیچیں۔ احمد کے مطابق دو ہزار بارہ میں کمپنی ایک دن میں اسی ہزار سے ایک لاکھ ڈالر کما رہی تھی۔ کسی دن ایک لاکھ پچیس ہزار ڈالر کماتے تو یہ جشن کا سماں ہوتا ، جعلی ڈگریاں لینے والوں میں زیادہ تر وہ امریکی نوجوان شامل تھے جو فوج میں جانا چاہتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…