بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

حکومت ادھار کی رقم پر خوش ،اگر عمران خان احتساب چاہتے ہیں تو اپنے وزراء کا بھی احتساب کریں اور سب کو پکڑیں،بڑا مطالبہ کردیا گیا

datetime 27  جنوری‬‮  2019 |

سکھر(این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر کینسل کیے گئے تو پارلیمنٹ نہیں چلے گی،اگر حکومت احتساب چاہتی ہے تو اپنے وزراء کا بھی احتساب کرے اور سب کو پکڑیں،اللہ کرے حکومت اپنی مدت پوری کرے،حکومت ادھار کی رقم پر خوش ہورہی ہے۔

ادھار پر کوئی گھر یا فیکٹری نہیں چلتی۔ اتوار کویہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ایسے فیصلے کریں جس سے بہتری آئے، اگر حکومت احتساب چاہتی ہے تو اپنے وزراء کا بھی احتساب کرے اور سب کو پکڑیں۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے بغیر پارلیمنٹ نہیں چل سکتی، جس پر صحافی نے سوال کیا شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر کینسل ہوئے تو اپوزیشن کیا کرے گی؟ جس پر انہوں نے کہا کہ پھر وزراء پارلیمنٹ میں نہیں آسکیں گے، ہم بھی نہیں آئیں گے اور پارلیمنٹ نہیں چلے گی۔انہوں نے سوال کیا کہ اپوزیشن لیڈر کے بغیر پارلیمنٹ کیسے چل سکتی ہے، ان کے پروڈکشن آرڈر کینسل کیے جانے کا مطلب ہے یہ پارلیمنٹ چلانا نہیں چاہتے، اللہ کرے حکومت اپنی مدت پوری کرے۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ حکومت ادھار کی رقم پر خوش ہورہی ہے، ادھار پر کوئی گھر یا فیکٹری نہیں چلتی، پاکستان کو تو صرف ڈپازٹ کرنے کے لئے پیسے ملے ہیں اور اس پیسے کو ہم ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے جبکہ اس پر 3 فیصد سود بھی دے رہے ہیں۔رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ منی بجٹ میں انڈسٹری کو ریلیف دیا گیا، زراعت کے شعبے کونہیں،بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی کوئی رعایت نہیں کی گئی۔ عمران خان نے کہا تھا کہ 50 لاکھ گھر گراؤں گا، بناؤں گا نہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…