پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

فوجی عدالتیں پاک فوج کی خواہش نہیں بلکہ قومی ضرورت تھیں اور اب یہ عدالتیں اسی وقت کام کرینگی جب۔۔۔!!!پیپلز پارٹی کی جانب سے فوجی عدالتوں کی مخالفت پر عسکری ترجمان کا ردعمل بھی سامنے آگیا

datetime 19  جنوری‬‮  2019 |

راولپنڈی (آئی این پی)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ فوجی عدالتیں پاک فوج کی خواہش نہیں بلکہ یہ قو می ضرورت تھیں ، پارلیمنٹ نے قومی سیاسی اتفاق رائے سے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی تھی ، اگر پارلیمنٹ نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کافیصلہ کیا تو یہ عدالتیں آگے اپنا کام جاری رکھیں گی تاہم یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا ملک کا فوجداری نظام اب موثر ہو گیا ہے؟ ۔

وہ  نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کی لہر تھی جس کے خلاف 2008 سے آپریشنز میں تیزی آئی ۔ ملٹری کورٹس کا فیصلہ پارلیمنٹ نے قومی سیاسی اتفاق رائے سے لیا تھا اور یہ دو مرتبہ پارلیمنٹ نے یہ فیصلہ کیا ۔ دہشتگردی کے خلاف ہم نے 20 سال سے جنگ لڑی ۔ 21 ویں ترمیم کے تحت دوبار2،2 سال کے لئے ملٹری کورٹس کے قیام کی منظور ی پارلیمنٹ نے دی تھی ۔ اب اگر تیسری بار فوجی عدالتیں بھی برقرار رہیں گی تو یہ بھی فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے گی ۔ سانحہ اے پی ایس پشاور کے بعد سیاسی اتفاق رائے سے پارلیمنٹ کی منظور ی کے بعد فوجی عدالتیں بنی تھیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملٹری کورٹس فوج کی خواہش نہیں بلکہ یہ قوم کی ضرورت تھیں ۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہمارا فوجداری نظام موثر ہوگیاہے ؟انہوں نے کہاکہ اپنے قیام کے 4 سال کے دوران فوجی عدالتوں میں 717 مقدمات آئے ۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ 4 سال میں ملٹری کورٹس نے 646 کیسز کے فیصلے کئے ۔ ملٹری کورٹس نے 345 مجرمان کو موت کی سزا سنائی ۔ فوجی عدالتوں سے سزا ملنے پر 56 مجرمان کو پھانسی ہوئی ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پیپلز پارٹی کی جانب سے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی مخالفت کی گئی تھی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…