پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

نواز شریف اب بھی وزیراعظم ہیں،نواز شریف کی نا اہلیت سے متعلق نوٹیفیکشن کا خاتمہ،بڑا قدم اُٹھالیاگیا

datetime 17  جنوری‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن )لاہور ہائیکورٹ کے جج نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت سے معذرت کر لی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نواز شریف کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے خلاف درخواست ذاتی وجوہات کی بنا پر سننے سے معذرت کی۔

رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ شہری غلام حسین بھٹی نے اے کے ڈوگر ایڈوکیٹ کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔درخواست میں وفاقی حکومت،الیکشن کمیشن،اسپیکر قومی اسمبلی او نواز شریف کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 28جولائی کو غیر قانونی طور پر نواز شریف کو ڈی نوٹیفائی کیا تھا جب کہ آئین کے آرٹیکل 95 اے کے تحت وزیراعظم کو صرف عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے سے ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔درخواستگزار نے کہا کہ نواز شریف کو عوام اور اراکین قومی اسمبلی نے اپنے ووٹوں سے وزیراعظم منتخب کیا۔غلام یاسین بھٹی نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کے 28جولائی کے نواز شریف کی نا اہلیت سے متعلق نوٹیفیکشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔درخواست گزار نے مزید کہا کہ نواز شریف اس وقت بھی وزیراعظم ہیں اور کیس کے فیصلے تک الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکشن کو معطل قرار دے دیا جائے۔واضح رہے پانامہ پیپرز کے سامنے آنے کے بعد پاکستانی سیاست میں ایک بھونچال آگیا اور اس معاملے کو 2016 میں سپریم کورٹ میں لایا گیا جہاں پر یہ کیس چلتا رہا اور فروری 2017 میں اس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا گیا۔ جو بعد ازاں 20 اپریل کو سنایا گیا جس کے نتیجے میں 2-3 کا فیصلے سامنے آیا اور کیس کے فیصلے کے نتیجے میں جے آئی ٹی بنا دی گئی جس کے نتیجے میں مسلم لیگ ن اور شریف خاندان نے بغلیں بجائیں اور اس فیصلے کو اپنی فتح قرار دیا اور مٹھائیاں تقسیم کیں اور اسی جے آئی ٹی میں جب پے در پے پیشیاں بھگتنا پڑیں تو مسلم لیگ ن نے اس ملک اورجمہوریت کے خلاف سازش قرار دے دیا۔جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹمیں پیش کی تو اس کے بعد 28 جولائی کو 0-5 کا فیصلہ آیا جس میں نواز شریف کو وزارت اعظمی سے نااہل کردیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…