پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

’’میری رگوں میں بلوچی خون، آخری دم تک لڑوں گا‘‘ چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرح میں بھی ملک کا قرض اتارنا چاہتا ہوں جسٹس آصف سعید کھوسہ کا حلف اٹھانے سے قبل ہی دبنگ اعلان

datetime 17  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نامزد چیف جسٹس  جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ بطور چیف جسٹس آف پاکستان انصاف کی فراہمی میں تعطل کو دور کرنے کی کوشش کروں گا اور سو موٹو (از خود نوٹس) کا اختیار وہاں استعمال ہوگا جہاں دوسرا حل موجود نہ ہو۔نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر منعقدہ فل کورٹ ریفرنس ہوا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بہت مشکل حالات میں عدالت چلائی، انہیں سیاسی، سماجی، معاشرتی اور آئینی سمیت کئی طرح کی مشکلات کا سامنا رہا۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے ساتھ پچھلے 20 سال سے ہوں اور ہم دونوں ایک ساتھ لاہور ہائیکورٹ کے جج بنے، ہم ایک ساتھ جڑے بچوں کی طرح ہیں جو آج الگ ہو جائیں گے، کسی سرجری کے ساتھ نہیں بلکہ آئین کے تحت الگ ہوں گے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی انسانی حقوق سے متعلق خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، انہوں نے معاشرتی اور آئینی سمیت کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کیا۔انہوں نے کہا کہ بطور چیف جسٹس پاکستان انصاف کی فراہمی میں تعطل کو دور کرنے کی کوشش کروں گا، ماتحت عدلیہ میں برسوں سے زیر التواء مقدمات کے جلد تصفیے کی کوشش ہوگی۔جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ غیر ضروری التواء کو روکنے کے لیے جدید آلات کا استعمال کیا جائے گا، جعلی مقدمات کے خلاف ڈیم بناؤں گا اور عرصہ دراز سے زیر التواء مقدمات کا قرض اتاروں گا، اس وقت عدالتوں میں 19 لاکھ کیسز زیر التواء ہیں۔جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ 3 ہزار ججز 19 لاکھ مقدمات نہیں نمٹا سکتے، میں جعلی گواہوں کے خلاف بھی ڈیم بنانا چاہتا ہوں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ میری رگوں میں بلوچی خون ہے ۔آخری دم تک لڑوں گا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرح میں بھی ڈیم تعمیر کرنا چاہتا ہوں اور میں بھی ان کی طرح ملک کا قرضہ اتارنا چاہتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…