پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

امداد پاکستان کو ملی کسی چیف کو نہیں ، شہباز شریف کے بیان کو مسترد کرتا ہوں ، آصف زرداری فوج کیخلاف بھی بول پڑے

datetime 14  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی جانب سے پاکستان کو ملنے والی امداد آرمی چیف کی مرہون منت قرار دینے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امداد کسی چیف کو نہیں بلکہ پاکستان کو ملی ہے انہوں نے نیب کی جانب سے پارلیمنٹرینز کو ہراساں کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ میں طلب کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ’اس وقت تمام جماعتیں سوچ رہی ہیں کہ نیب کے چیئرمین کے پاس جائیں،

میں کہتا ہوں آپ کیوں ان کے پاس جائیں گے انہیں پارلیمنٹ کے سامنے حاضر ہونا چاہیے، یہ میری بات نہیں ہے، میں نے بڑے نیب دیکھے ہیں اور دیکھتا رہوں گا، بات یہ ہے کہ جس دن حکومتی اراکین کو بلایا جائے گا اس دن کیا ہوگا۔’ میں اور میرے خاندان نے ہمیشہ مقدمات کا سامنا کیا ہے مگر مجھے فکر اس بات کا ہے جب موجودہ حکمرانوں کو نیب طلب کرے گی۔۔ سوموار کے روز قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر بات آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم اسمبلی کے فلور پر جو حلف اٹھاتے ہیں کہ ہم انے اپنا کام شفافیت سے کرنا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈالر اوپر جا رہا ہے سٹاک ایکسچینج سے پچاس ارب ڈالر غائب ہو جاتے ہیں سندھ کو زمینوں کو سمندر کھا رہا ہے سندھ کی نو لاکھ زمنع سمندر برد ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ چےئر مین نیب کے پاس جانے کے بجائے اسے پارلیمنٹ کے سامنے حاضر ہونا چاہتے ہیں میں نے بڑے نیب دیکھے ہیں اور دیکھتا رہوں گا مگر جس دن اپ کو بلایا جائے گا تو پھر کیا ہو گا مجھے اپنی نہیں آپ کی فکر ہے ہم نے اپنی پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا ہے پارلیمنٹ اور جمہوریت کے لئے ہمیشہ کام کرتا رہوں گا انہوں نے کہا کہ میری عمر 64 سال ہے جب تک ہوں پارلیمنٹ کو اور نئے جواں دوستوں کو ٹرین کرنا جانتا ہوں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو معاشی طور پر جو سپورٹ مل رہی ہے وہ کسی چیف کو نہیں بلکہ پاکستان کو مل رہی ہے ہماری دولت پاکستان کو فیل سٹیٹ نہیں دیکھنا چاہتے ہیں شکر ہے کہ ہمیں کچھ سپورٹ ملی ہے مگر آج جو حالات ہیں اور بغیر سوچے سمجھے فیصلے ہو رہے ہیں

ایسی صورتحال سے ہم فیل اسٹیٹ کی سمت جا رہے ہیں اور ایسی صورتحال میں کوئی بھی اپ کو نہیں بچا سکے گا انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے چین کی حکومت کے ساتھ معاہدے کئے اور گوادر پورٹ کا منصوبہ ہم نے دستخط کیا ہے انہوں نے کہا کہ مجھے اور میرے خاندان کو جے ائی ٹی کا سامنا ہے چیف جسٹس کے شکر گزار ہیں کہ بلاول بھٹو کا نام ای سی ایل سے نکالا ہے انہوں نے کہا کہ اس پارلیمنٹ کو اپنی عزت اور پارلیمنٹرین کو عزت کے لئے اقدامات کرنے چاہئے آج اگر میاں شہباز شریف کو عزت ملی ہے تو ہمیں خوشی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت صورتھال یہ ہے کہ حکومت میں بڑی بڑی شوگر ملیں بند پڑی ہیں

اور مجھ پرالزام ہے کہ یہ ساری ملیں آصف علی زرداری کی ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ اقدامات آئین سے ماورا ہیں نئی جے آئی ٹی وقت کا ضیاء ہے اور میڈیاکو پگڑیاں اچھالنے کا موقع ملے گا پارلیمنٹ چئیر مین نیب کو طلب کرے اور جس پرقانون بنانا ہو گا کہ ہماری کسی پارلیمنٹرین کو بلائیں تو پارلیمانی کمیٹی کو بتانا چاہئے انہوں نے کہا کہ ملک میں ادارے تباہ ہو رہے ہیں حکومت کو اندر سے دیمک کھا رہی ہے سیکرٹری صاحبان فائلوں پر دستخط نہیں کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مانگے تانگے کی حکومت ہے پتہ نہیں کتنے دن چلتی ہے حکومت میں برطرف بندے لا کر بٹھائے گئے ہیں میری نصیحت ہے کہ ہم اگر نیب کو تھوڑا ٹائیٹ کریں کو ملک چل پڑے گا حکومت 6 ماہ میں کوئی بھی مسئلہ حل نہیں کر سکی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…