بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

بڑے شہروں کے سیوریج سسٹم میں پولیو وائرس کی تصدیق

datetime 14  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پولیو بابر بن عطا کا کہنا ہے کہ ملک کے بڑے شہروں کے سیوریج میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پولیو بابر بن عطا نے تفصیلات جاری کردیں۔ بابر عطا کے مطابق کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ کے سیوریج پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

معاون خصوصی کے مطابق کراچی کے علاقے گڈاپ اور کورنگی جبکہ پشین، قلعہ عبد اللہ اور بنوں کے سیوریج میں بھی پولیو وائرس پایا گیا ہے۔ بابر عطا کا کہنا ہے کہ شہروں کے سیوریج سے نمونے دسمبر 2018 میں لیے گئے تھے۔ خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی پاکستان میں ایک اور پولیو کیس سامنے آیا تھا۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں 16 ماہ کی انعم میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ یہ سنہ 2019 کا پاکستان میں سامنے آنے والا پہلا پولیو کیس ہے۔ گزشتہ برس یعنی سنہ 2018 میں 10 پولیو کیسز ریکارڈ کیے گئے، ایک ایسے موقع پر جب پاکستان میں پولیو کیسز کی شرح بتدریج کم ہونے کے بعد خیال کیا جارہا تھا کہ گزشتہ برس کے آخر تک پاکستان پولیو فری ملک بن جائے گا، یہ تعداد نہایت مایوس کن اور تشویش ناک تھی۔ 3 کروڑ 70 لاکھ پاکستانی بچے پولیو سے محفوظ اینڈ پولیو پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پولیو کیسز کی بلند ترین شرح سنہ 2014 میں دیکھی گئی جب ملک میں پولیو وائرس کے مریضوں کی تعداد 306 تک جا پہنچی تھی۔ یہ شرح پچھلے 14 سال کی بلند ترین شرح تھی۔ اس کے بعد پاکستان پر سفری پابندیاں بھی عائد کردی گئیں تھی۔ اسی سال پڑوسی ملک بھارت پولیو فری ملک بن گیا۔ تاہم اس کے بعد عالمی تنظیموں کے تعاون سے مقامی سطح پر پولیو کے خاتمے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے گئے جس کے بعد سنہ 2015 میں یہ تعداد گھٹ کر 54 اور سنہ 2016 میں صرف 20 تک محدود رہی۔ سنہ 2017 میں پولیو کے 8 کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…