جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

کینسر سیلز کا خاتمہ کیسے ہوتا ہے؟ڈرامائی ویڈیو میں انکشاف

datetime 22  مئی‬‮  2015 |

لندن (نیوز ڈیسک) سائنسدانوں نے ایک ایسی ڈرامائی ویڈیو جاری کی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح انسانی دفاعی نظام کینسر سیلز کیخلاف لڑائی کرتا ہے اور انہیں چن چن کے مارتا ہے۔ اس مقصد کیلئے ماہرین نے امیجنگ ٹیکنیک کو استعمال کیا ہے تاکہ وہ کینسر سیلز کے دشمن ٹی سیلز کے کام کو جان سکیں۔ ٹی سیلز خون کے ان سفید خلیوں کو کہتے ہیں جو بطور خاص رسولی کے خلیوں یا پھر ایسے سیلز کا خاتمہ کرتے ہیں جو کہ وائرس سے متاثر ہوچکے ہوں۔ انسانی جسم میں یہ اربوں کی تعداد میں ہوتے ہیں اور ایک چائے کے چمچ برابر خون کی مقدار میں پچاس لاکھ ٹی سیلز موجود ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک انسانی بال کے دسویں حصے جتنا طویل یا پھر 10مائیکرومیٹر کا ہوتا ہے۔
اس ویڈیو کو بنانے کا سہرا پروفیسر گرفتھس کے سر ہے جو کہ کیمبرج یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار میڈیکل ریسرچ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر انسان کے اندر جنگجو ٹی سیلز کی پوری ایک فوج ہوتی ہے جس کا کام ہی خطرناک سیلزکو تباہ کرنا ہے اور وہ یہ کام بار بار کرتی ہے۔ یہ سیلز سیکیورٹی افسران کی طرح انسانی جسم کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔ اس دوران وہ ایسے سیلز پر بھی نگاہ رکھتے ہیں جو کہ جسم کیلئے کسی بھی طرح نقصان دہ ثابت ہوسکیں اور پھر یہ انہیں انتہائی مہارت سے ختم کر ڈالتے ہیں۔ اس ویڈیو میں ٹی سیلز نارنجی یا پھر سبز رنگ کے دکھائے گئے ہیں جو کہ انتہائی تیزی سے حرکت میں رہتے ہیں تاکہ اپنے ماحول کے بارے میں تفتیش جاری رکھ سکیں۔ جوں ہی انہیں کوئی کینسر سیل دکھائی دیتا ہے جو کہ ویڈیو میں نیلے رنگ کا دکھایا گیا ہے تو ٹی سیل کی بیرونی ممبرین اس کی شناخت میں لگ جاتی ہے۔ اس کے بعد یہ خود کو کینسر سیل سے جوڑ لیتے ہیں اور اپنے جسم میں موجود زہریلے پروٹینز اس حصے میں لاتے ہیں جو حصہ کینسر سیل سے جڑا ہوتا ہے اور پھر اس مہلک پروٹین کو کینسر سیل میں داخل کردیتے ہیں۔ پروفیسر گرفتھس کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں خلیئے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، ایسے میں ٹی سیل کیلئے اپنا کام انتہائی مہارت سے کرنا کافی مشکل ہے۔ اگر یہ کینسر سیل کے ساتھ خود کو جوڑ کے یہ کام نہ کرے تو ایسے میں ساتھ جڑے صحت مند خلیو¿ں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس زہریلے پروٹین کی کھیپ کینسر سیل میں داخل ہوتے ہی اس کے مرجھانے کا عمل شروع ہوجاتا ہے اور پھر یہ جلد ہی ختم ہوجاتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…